فرانس: مصری نژاد پروفیسر طارق رمضان پر پانچویں خاتون سے زیادتی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس میں عدالت نے جمعرات کے روز مصری نژاد اسکالر طارق رمضان پر ایک اور خاتون کے ساتھ زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔ اس طرح منیہ ربوج پانچویں خاتون ہیں جنہوں نے جنسی حملے کے الزام کے تحت طارق رمضان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔

پیرس میں پراسیکیوشن نے 2018ء میں طارق پر اس الزام کے عائد کیے جانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم اس وقت ججوں نے منیہ ربوج کے کیس کے حوالے سے فیصلے کو معلق کر دیا تھا۔ اس دوران زیر حراست طارق رمضان نے پہلی مرتبہ ماورائے ازدواج تعلقات کا اقرار کرتے ہوئے اس عمل کو "متفقہ" قرار دیا تھا۔

متاثرہ خاتون منیہ ربوج کی گواہی نے طارق پر عائد الزامات میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں 47 سالہ خاتون نے مارچ 2018ء میں طارق کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ منیہ نے دعوی کیا تھا کہ طارق نے 2013ء سے 2014ء کے درمیان فرانس، لندن اور برسلز میں اسے نو مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ 58 سالہ طارق رمضان نے 5 جون 2018ء کو منیہ ربوج کی گواہی کے بعد اس کے اور گواہیاں پیش کرنے والی دیگر خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

کچھ عرصہ قبل طارق رمضان پر عدالتی نگرانی میں نرمی کر دی گئی تھی۔ اس طرح اب اسے مہینے میں دو بار پولیس مرکز میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں