.

امریکا اور بحرین کے شاہ حمد مرکز میں یہود مخالف جذبات کے انسداد اورامن کے فروغ کا سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کے شاہ حمد عالمی مرکز اور امریکی حکومت نے صہیونیت مخالف جذبات سے نمٹنے اور مشرقِ اوسط میں امن کے فروغ کے لیے ایک سمجھوتے پر دست خط کیے ہیں۔

صہیونیت مخالف جذبات سے نمٹنے اور ان کی نگرانی (سیاس) کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی ایلن کار نے شاہ حمد مرکز برائے پُرامن بقائے باہمی کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت طے پانے کا اعلان کیا ہے۔

اس سمجھوتے میں کہا گیا ہے کہ ’’عرب اور یہود دونوں ہی سامی اقوام ہیں۔انھیں سامی عوام کے خلاف پائی جانے والی منافرت اور عدم رواداری کے خطرے کا سامنا ہے۔‘‘

اس کے مطابق ’’ دونوں ادارے مشرقِ اوسط میں باہمی احترام ،عربوں اور یہود اور ان کی قومی ریاستوں کےدرمیان پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں گے،اس ضمن میں پروگرام وضع کریں گے اور انھیں عملی جامہ پہنائیں گے۔‘‘

اس ضمن میں مشرق اوسط میں ماضی میں یہود اور عربوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی سے رہنے کے تاریخی ادوار کے بارے میں تعلیمی پروگرام وضع کیے جائیں گے اور ان کے اہم تاریخی واقعات کو منایا جایا جائے گا۔بیان کے مطابق یہود مخالفت کی تمام شکلوں سے باہمی شراکت داری سے نمٹا جائے گا۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ’’عزت مآب شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ مشرقِ اوسط کو مستقبل میں عربوں اور یہود کے درمیان امن ،باہمی رواداری، احترام اور تعاون کے فروغ کا گہوارہ بنانے کے خواہاں ہیں اور وہ اس امر کو بحرین کی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں۔

بحرین نے گذشتہ اتوار کو اسرائیل سے معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے امن معاہدے کی منظوری دی تھی اور وہ مصر ، اردن اور متحدہ عرب امارات کے بعد اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کرنے والا چوتھا ملک بن گیا تھا۔

اسی روز امریکی وزیر خزانہ اسٹوین نوشین کے زیرقیادت امریکا اور اسرائیل کے اعلیٰ سطح کے وفد نے منامہ کا دورہ کیا تھا اور بحرین کے ساتھ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون و تعلقات کے فروغ کے لیے مختلف سمجھوتوں پر دست خط کیے تھے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کی ترجمان لائر حیات نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ یہ خطے میں امن ، خوش حالی اور استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔‘‘ ایک اور عرب ملک سوڈان نے بھی جمعہ کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کا اعلان کردیا ہے۔