.

وسطی سعودیہ میں مٹی اور کھجور کے تنوں سے بنائی بستی کا قصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودہ عرب کے وسط میں واقع 'اشیقر' نامی ایک گائوں اپنے پرانے طرز تعمیر کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے اس گائوں کی تصاویر حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 'اشیقر' گائوں آج کے جدید طرز تعمیر کے درمیان ماضی کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اس میں بنائے چھوٹے چھوٹے مکانات میں مٹی، گارے اور ستونوں اور چتھوں کے لیے کھجور کے تنوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ٹوریسٹ گائیڈ عبدالعزیز الھدیب نے بتایا کہ اشیقر گائوں سعودی عرب کے وسطم میں واقع ہے۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں تمام گھر مٹی اور کھجور کے تنوں سے تیار کیے گئے ہیں۔

ان مکانوں کے دروازے اور کھڑکیاں‌ بھی لکڑسے تیار کی گئی ہیں۔ دیواروں کی تعمیر کے لیے پتھر اورگارے کا استعمال کیا گیا۔ اپنے مخصوص فن تعمیر کی بدولت یہ گائوں ایک خاص ثقافتی اہمیت رکھتا ہے۔ پرانے دور کے بنے ان گھروں میں اگرچہ آج کوئی رہائش پذیر نہیں مگر ان کے دروازوں پر ماضی میں ان میں بسنے والے لوگوں کے نام کندہ حالت میں ملتے ہیں۔