.

کابل: داعش کا خودکُش دھماکا، 18 افراد جاں بحق، 57 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت میں قائم ایک تعلیمی مرکز کے باہر خودکُش حملے میں 18 افراد جاں بحق اور 57 زخمی ہوگئے ہیں جب کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے بتایا کہ ایک بمبار نے سیکیورٹی گارڈ کے حلیے میں مغربی کابل کے علاقے دشتِ برچی میں کوثرِ دانش تعلیمی مرکز کے باہر خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملے کے وقت بڑی تعداد میں طلبہ سواریوں کے انتظار میں جائے وقوعہ پر موجود تھے۔ متعدد زخمیوں کی حالت انتہائی نازک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ادھر داعش نے اس واقعے کی ذمے داری قبول کر لی ہے جب کہ عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق طالبان نے اس کارروائی سے تعلق ہونے کی اطلاعات مسترد کردی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی انخلا کے حوالے سے طالبان سے جاری مذاکرات کے بعد یہ حملہ ایک ایسے مرحلے میں کیا جارہا ہے جب افغانستان کے اندر مختلف فریقوں کے مابین مذاکرات کا سلسلہ ابتدائی مرحلے میں ہے۔

یاد رہے کہ مغربی کابل کے جس علاقے میں یہ حملہ ہوا ہے وہاں ہزارہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی آبادی زیادہ ہے اور ماضی میں اس علاقے میں داعش کارروائیاں کرتی رہی ہے۔ 2018 میں اسی علاقے کے ایک اور تعلیمی مرکز پر حملہ ہوچکا ہے جب کہ رواں برس مئی میں ایک مسلح شخص نے اسی علاقے کےا یک زچہ و بچہ وارڈ پر حملہ کردیا تھا جس میں نوزائیدہ بچوں اور ماؤں سمیت 24 افراد کی جانیں گئی تھیں۔

پاکستان کی مذمت

دفتر خارجہ کے جاری کردی بیان میں کابل میں تعلیمی مرکز کے باہر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل کے علاقے دشت برچی میں دہشت گردانہ حملے میں کئی معصوم انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردانہ حملے میں عورتوں اور بچوں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے۔متاثرین کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے ۔ پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کی حمایت جاری رکھے گا۔