.

آرمینیا کے متنازع علاقے کاراباخ کے قریب ایرانی پاسداران انقلاب کے دستے تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک اعلی عہدے دار نے آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین واقع متنازع علاقے ناگورنو کاراباخ کے قریب سرحدی پٹی میں ایرانی فوجی دستے تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس اعلان سے قبل کچھ ویڈیوز اور اطلاعات سامنے آئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ ایران نے آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین جنگ کا باعث بننے والے علاقے کے قریب اپنی شمالی سرحدوں پر فوجی سازوسامان بھیجا ہے اور کچھ فوجی بھی روانہ کیے گئے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے زمینی دستوں کے کمانڈر محمد باکپور جو آذربائیجان کے ساتھ سرحدی علاقے "خودا آفرین" کے دورے پر تھے نے کہا کہ ایرانی افواج کی تعیناتی کا مقصد ایرانی مفادات کا تحفظ ہے۔

پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ قومی مفادات کے تحفظ اور خطے میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے یوریان اور باکو کے مابین تنازعہ کے پہلے دنوں سے زمینی دستوں کی تعیناتی عمل میں آئی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں یہ اطلاعات آئی ہیں کہ ایران کے صوبہ "خدا آفرین" میں 30 کے قریب ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کی گئیں ہیں اور کچھ ویڈیو کلپس میں سرحد کے قریب فوجی تعیناتی دکھائی گئی ہے۔

ایرانی حکومت کے عہدیداروں نے بار بار آرمینیا اور آذربائیجان کو ایرانی سرزمین پر بم باری ، گولہ بارود اور احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے متنبہ کیا تھا۔