.

خاتون سفارت کار جس نے اسرائیل سوڈان تعلقات میں‌ پُل کا کردار ادا کیا

نجویٰ قدح الدم چند ماہ قبل کرونا سے جاں‌ بحق ہوگئی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعہ کے روز سوڈان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے اور تل ابیب کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعلقات کے آغاز کے اعلان کے ساتھ ہی خرطوم نے کئی دہائیوں پرانے بائیکاٹ اور دشمنی کو توڑ دیا ہے۔ ماضی میں سوڈان اسرائیل کے حوالے سے انکار پر مبنی تین اصولوں پرعمل پیرا رہا ہے۔ وہ تین اصول اسرائیل کو تسلیم نا کرنا، اسرائیل کی سلامتی کےحوالے سے کوئی تعاون نہ کرنا اور صہیونی ریاست کے ساتھ کسی بھی سطح کے مذاکرات نہ کرنا تھے مگر موجودہ عبوری حکومت اور خود مختار کونسل نے ان تینوں اصولوں کی نفی کر دی ہے۔

اگرچہ عبوری حکومت دو ماہ سے زیادہ عرصے سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کو نئی پارلیمںٹ کے چنائو تک ملتوی کرنے پر زور دیتی رہی ہے مگر سابق صدر عمر البشیر کی معزولی کے ساتھ ہی خرطوم نے اسرائیل کے حوالے سے اپنے ماضی کے رویے میں تبدیلی کا اشارہ دے دیا تھا۔ اس طرح دو ماہ کے اندر اندر متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد سوڈان اسرائیل کو تسلیم کرنے والا تیسرا ملک بن گیا ہے۔

سوڈان اور اسرائیل کے درمیان قربت کی جب بھی بات کی جائے گی تو اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک سوڈانی نژاد نجویٰ قدح الدم کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نجویٰ قدح نے صہیونی ریاست اور سوڈان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کا باب کھولنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

سوڈان کی یہ سابق سفیرہ یوگنڈا کے سابق صدر یوری موسیوینی کے مشیر کے عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔ قدح کے صدر موسیوینی کے ساتھ قریبی تعلقات تھے جس نے یوگنڈا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی راہیں وا کیں۔ چنانچہ اس نے چند ماہ قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور سوڈانی خودمختار کونسل کی سربراہ عبدالفتاح البرہان کے درمیان ملاقات کا اہتمام کرنے کے لیے متعدد رابطے کیے تھے۔

کرونا اور قدح الدم

رواں سال مئی میں قدح الدم کوویڈ 19 کا شکار ہوئیں تو ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے اسرائیل نے ان کے علاج کے لیے خصوصی طیارہ بھی بھیجا تھا تاہم ڈاکٹروں نے اسے سفر کی اجازت نہیں دی۔ بعد ازاں وہ کرونا کی وبا کے نتیجے میں انتقال کرگئی تھیں۔

اپنی وفات تک نجویٰ‌ نے سوڈان اور اسرائیل کے درمیان قربت کے لیے ان تھک کوششیں کیں۔ نجویٰ کی پیدائش ام درمان میں ہوئی تھی اور ابتدائی تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی۔ اس کے بعد وہ خرطوم چلی گئیں جہاں اس نے یونیورسٹی میں میکینیکل انجینئرنگ کی فیکلٹی میں تعلیم حاصل کی۔

سنہ 1989 میں نجویٰ نے گریجویشن کی۔ اس کے بعد خرطوم یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دینا شروع کیں بعد میں اسے جرمنی میں شمسی توانائی سے متعلق پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے لیے بھیجا گیا جہاں اس نے اپنے استاد جرمن نژاد احمد نومان سے شادی کی۔ کچھ عرصے بعد وہ شوہر سے الگ ہوگئی اور اپنی اکلوتی بیٹی کو لے کر آسٹریا آگئی۔ یہاں اس کی ملاقات یوگنڈا کے صدر یووری مویسینی سے ہوئی اور دونوں کے درمیان مضبوط تعلقات قائم ہوگئے۔

وطن واپسی پر اس نے سوڈان میں سفارت کاری کے میدان میں قدم رکھا جہاں اسے جنوبی سوڈان کے ساتھ امن بات چیت کے لیے مقرر کمیٹی میں تعینات کیا گیا۔ امن مساعی پر معزول صدر عمر البشیر نے سنہ 2018ء کو اسے تمغے سے بھی نوازا۔ اس کے بعد اسے سوڈان میں خصوصی سفارتی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں اور اس نے خصوصی سفارتی پاسپورٹ حاصل کیا۔

برطانوی اخبار انڈی پینڈنٹ کے مطابق گذشتہ برس سفارتی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے باوجود نجویٰ نے اسرائیل اور سوڈان کے درمیان قربت پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔

ایسے لگتا ہے کہ سوڈان خاتون سفارت کار اپنی وفات سے چند ماہ قبل ہی اسرائیل اور سوڈان کے درمیان تعلقات کی راہیں‌کھول دی تھیں۔