.

امریکی ثالثی میں آذر بائیجان اور آرمینیا جنگ بندی پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ آرمینیا اور آذربائیجان نے پیر کے روز ایک بار پھر واشنگٹن میں مذاکرات کے بعد ناگورنو کاراباخ خطے میں "انسانی بنیادوں پر" جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

ہفتے کے روز اسسٹنٹ سکریٹری خارجہ اسٹیفن بیگن نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایک بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ یہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی 26 اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق 8:00 بجے نافذ العمل ہوگی۔

ایک علاحدہ بیان میں 'او ایس سی ای' منسک گروپ جو اس تنازع میں ثالثی کے لیے فرانس، روس اور امریکا کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا تھا نے کہا کہ وہ ناگورنو کاراباخ مسئلے پر بات کرنے کے لیے 29 اکتوبر کو ایک بار پھر ملاقات کرے گی۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جمعہ کے روز آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے علاحدہ علاحدہ ملاقات کی تھی۔ بات چیت میں دونوں ملکوں‌ کے درمیان جاری محاذ آرائی روکنے پر بات چیت کی گئی تھی۔ خیال رہے کہ روسی صدر نے کہا تھا کہ ایک ماہ سے جاری لڑائی میں آرمینیا اور آذر بائیجان میں کم سے کم پانچ ہزار افرادہلاک ہوچکے ہیں۔

آذربائیجان کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ آرمینیا نے اغدام، تارتار اور اغجبادی میں آذربائیجان کے رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے جب کہ آذربائیجان کے علاحدگی پسند خطے میں وزارت دفاع نے الزام لگایا تھا کہ اس نے اپنی فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی، جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پچھلے ستمبر میں لڑائی شروع ہونے کے بعد آذر بائیجان میں ہلاکتوں کی تعداد 974 ہوگئی ہے۔