.

آسٹریا کی کمپنی نے ایران کو ڈرون طیاروں کے انجنوں کی فراہمی بند کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریا میں ڈرون طیاروں کے انجن تیار کرنے والی کمپنی "روٹیکس" نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایرانی پاسداران انقلاب کے لیے اپنی مصنوعات کی برآمد روک دی ہے۔ واضح رہے کہ یہ پیش رفت امریکا کی جانب سے تہران کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور ایرانی آئل سیکٹر پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب اپنے ملسح ڈرون طیاروں "شاہد 129" میں ابھی تک مذکورہ آسٹریائی کمپنی کے انجن استعمال کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی کی جانب سے عائد کی جانے والی تازہ ترین پابندیوں میں ایرانی وزارت تیل اور آئل سیکٹر کی دو سرکاری کمپنیوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ ایرانی آئل سیکٹر کے ساتھ کام کرنے والے افراد اور اداروں کو بھی لپیٹ میں لیا گیا ہے۔

نئی امریکی پابندیوں کا مقصد خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے حوالے سے تہران کی قدرت پر روک لگانا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اپنی ایک ٹویٹ میں کہہ چکے ہیں کہ ایرانی نظام نے اپنا تیل پاسداران انقلاب کے پاس گروی رکھ دیا ہے ،،، وہ ایرانی عوام کے حالات بہتر بنانے کے بجائے عدم استحکام پھیلانے کی کارروائیوں کی فنڈنگ کر رہا ہے۔

ادھر امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن منوچن نے باور کرایا ہے کہ تہران کا نظام ایرانی عوام کی ضروریات کا گلا گھونٹ کر مسلسل دہشت گرد تنظیموں اور اپنے جوہری پروگرام کی سپورٹ کو ترجیح دینے میں مصروف ہے۔

ایران کے وزیر تیل بیغن زنگنہ کا کہنا ہے کہ امریکا کا نیا اقدام ،،، ایران کے خام تیل کی برآمدات زیرو پوائنٹ تک کم کرنے میں واشنگٹن کی پالیسی ناکام ہو جانے پر منفی ردّ عمل ہے۔ بیغن کے مطابق ایران کی تیل کی صنعت پابندیوں سے ہر گز متاثر نہیں ہو گی۔