.

ترک صدرایردوآن کی ڈچ سیاستدان وائیلڈرس کے خلاف فوجداری مقدمے کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے معروف متنازع ڈچ سیاست دان گیرٹ وائیلڈرس کے خلاف فوجداری مقدمے کی درخواست دائرکردی ہے اور ان پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر ان کی تضحیک کی ہے۔

نیدرلینڈز کی فریڈم پارٹی کے لیڈر گیرٹ وائیلڈرس مسلم مخالف نسل پرست سیاست دان کے طور پر مشہور ہیں۔انھوں نے ہفتے کے روز صدر ایردوآن کی تصویر والا ایک کارٹون پوسٹ کیا تھا اور اس کے ساتھ کیپشن میں لکھا تھا: ’’دہشت گرد‘‘۔سوموار کو انھوں نے ایک ڈوبتے جہاز کی تصویر پوسٹ کی،اس پر ترکی کا قومی پرچم لہرا رہا تھا اور اس کے ساتھ انھوں نے یہ لکھا تھا کہ’’بائی بائی@ آر ٹی ایردوآن ، ترکی کو نیٹو سے نکال باہر کرو۔‘‘

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق صدر ایردوآن کے وکلاء نے اس اشتعال انگیزی کے ردعمل میں منگل کے روز انقرہ میں پراسیکیوٹرز کے ہاں ایک قانونی درخواست دائر کی ہے اور اس میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ترکی کی عدالتوں کو اس معاملے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے کیونکہ ملک کے صدر کی توہین کی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’اس جرم کا نہ صرف صدارتی نشست پر براجمان شخصیت کے خلاف ارتکاب کیا گیا ہے بلکہ اس سے ریاست کی سیاسی حکومت کے ڈھانچے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ ’’وائیلڈرس کے تبصرے کو اظہار رائے کی آزادی کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ انھوں نے صدر ایردوآن کی عزت،وقار ،کردار اور شہرت پر حملہ کیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ترک حکام ماضی میں بھی گیرٹ وائیلڈرس کے توہین آمیز اور اشتعال انگیز بیانات اور حرکات کو ہدف تنقید بناتے رہے ہیں۔ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے اتوارکو ایک بیان میں انھیں ’’ہارا ہوا نسل پرست‘‘ قرار دیا تھا جو ان کے بہ قول اسلام اور غیرملکیوں کے خلاف معاندانہ بیان بازی کے ذریعے نیدرلینڈز میں عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے ٹویٹر پر لکھا:’’اب وقت آگیا ہے کہ یورپ اپنے دھتکارے ہوئے نسل پرست ذہنیت کے حامل سیاست دانوں کو روکے۔‘‘

ترکی کی قوم پرست تحریک پارٹی کے لیڈر اور صدر ایردوآن کے اتحادی دولت بہیج علی نے ایک بیان وائیلڈرس کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ’’گہرے تاریک تعلقات‘‘ ہیں۔