.

ہم دستوری آزادیوں کے نہیں بلکہ نفرت کے خلاف ہیں: رابطہ عالم اسلامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری محمد العیسیٰ نے ’’العربیہ‘‘ سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان کسی بھی شخص کی دستوری آزادیوں کے خلاف نہیں بلکہ ان آزادیوں کو نفرت پھیلانے سے روکنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم قانونی آزادیوں کے خلاف نہیں، بلکہ اہم ان آزادیوں کو مادی فوائد کے لیے استعمال کرنے کے خلاف ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے دستوری آزادیاں بے وقعت ہو جاتی ہیں۔ ہم ان کے نتیجے میں فروغ پانے والی نفرت اور نسلی امتیاز کے خلاف ہیں۔‘‘

رابطہ عالم اسلامی کے سربراہ کا بیان آزادی اظہار رائے کے نام پر فرانس کے ایک سکول میں مسلماںوں کے آخری نبی ﷺ کے خاکے کے بعد پیدا ہونے والے تنازع کے جلو میں سامنے آیا ہے۔ آزادی اظہار رائے کی کلاس میں نبی رحمتﷺ کے خاکے دکھانے والے استاد کے قاتل کی مذمت کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے اسے ’’اسلامسٹ‘‘ قرار دیا تھا۔

فرانسیسی صدر نے مقتول صدر کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم خاکے بنانا ترک نہیں کریں گے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’وہ [استاد] اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ اسلامسٹ ہمارا مسقتبل چھیننا چاہتے ہیں۔‘‘ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’’وہ [مسلمان] ایسا کرنے میں ہر گز کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔‘‘

اس واقعہ نے مذاہب کے احترام سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے، جس کے بعد مسلم دنیا کے کئی راہنماؤں نے اس جرم کی مذمت کرتے ہوئے انبیاء کے احترام پر زور دیا ہے۔

محمد العیسیٰ نے حضرت محمد ﷺ کے خاکے بنانے کے فعل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں مسلمانوں کے خلاف جارحیت قرار دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نبیﷺ کا مقام انتہائی بلند ہے، جو ایسے خاکے بنا کر کم نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ’’کسی بھی قسم کے منفی ردعمل سے احتراز کریں‘‘ اور وہ ایسے اقدامات پر تکیہ کریں جو اسلامی عقیدے کی تعلیمات سے ہم آہنگ ہوں۔

رابطہ عالم اسلامی کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ منفی ردعمل کی وجہ سے چیتھڑے اخبار جن کی تعداد اشاعت نہ ہونے کے برابر ہے موہوم خاکے چھاپ کر دنیا میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ انسانی حقوق کی یورپی عدالت فیصلہ دے چکی ہے کہ ہمارے نبیﷺ کی ذات سے متعلق گفتگو آزادی اظہار رائے کے زمرے میں نہیں آتی ہے۔ ’’مختصراً، آزادی کا اصول نفرت کے فروغ کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔‘‘