.

امریکا کوسعودی عرب،یو اے ای میں اپنے شہریوں پر دہشت گردی کے ممکنہ حملوں کی تشویش لاحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ خلیجی عرب ممالک میں دہشت گرد اس کے شہریوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا سکتے ہیں۔اس نے بیرون ملک رہنے والے امریکیوں کو دو انتباہ جاری کیے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’محکمہ خارجہ کو دہشت گردی کے عالمی خطرے کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔خلیج اور جزیرہ نما عرب میں امریکی شہریوں اور مفادات پر دہشت گردی کے ممکنہ حملے ہوسکتے ہیں۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ دہشت گرد تنظیموں نے مغربی اہداف کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے۔ان حملوں کے لیے مختلف حربے آزمائے جاسکتے ہیں۔خودکش حملے کیے جاسکتے ہیں،(مغربی شہریوں کو) قتل اوراغوا کیا جاسکتا ہے،یرغمال بنایا جاسکتا ہے اور بم دھماکے کیے جاسکتے ہیں۔‘‘

اس نے امریکی شہریوں کو نصیحت کی ہے کہ وہ نمایاں ہوکر لوگوں میں گھلنے ملنے سے گریز کریں اور سیاحوں کے آنے جانے کی عام جگہوں میں چوکنا اور ہوشیار رہیں۔

تاہم اس نے اس انتباہ سے متعلق مزید تفصیل جاری نہیں کی ہے۔قبل ازیں اس قسم کے انتباہ لبنان اور عراق ایسے غیر مستحکم عرب ممالک میں رہنے والے امریکی شہریوں کو جاری کیے جاتے رہے ہیں۔

سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانوں نے الگ سے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہوشیار رہیں۔

الریاض میں امریکی سفارت خانے نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’وہ آج 28 اکتوبر کو سعودی دارالحکومت کی جانب داغے گئے ممکنہ میزائلوں اور ڈرونز سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔‘‘اس نے امریکی شہریوں پر زوردیا ہے کہ وہ فوری طور پر صورت حال کا جائزہ لیں اور ضروری پیشگی حفاظتی اقدام کریں۔

اس نے اس کے چند گھنٹے کے بعد ایک اور بیان جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ ’’سعودی عرب میں امریکی مشن الریاض کی جانب آنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے متعلق رپورٹس کا اب کوئی سراغ نہیں لگا رہا ہے۔‘‘تاہم اس نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چوکنّا رہیں۔

قبل ازیں عرب اتحاد نے یہ اعلان کیا تھا کہ اس نے یمن سے حوثی شیعہ باغیوں کے سعودی عرب کی جانب داغے گئے متعدد ڈرونز کو تباہ کردیا ہے۔ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں سعودی عرب کی جانب بارود سے لدے متعدد ڈرون چھوڑے ہیں جبکہ عرب اتحاد نے ان میں سے بیشتر کو کسی ہدف پر گرنے سے قبل ہی تباہ کردیا ہے۔