.

نطنز دھماکے کے بعد ایران زیر زمین جوہری تنصیب تعمیر کر رہا ہے : آئی اے ای اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی IAEA (اقوام متحدہ کے زیر انتظام تنظیم) کے معائنہ کاروں نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے اپنے سابقہ نیوکلیئر اسٹیشن پر دھماکے کے بعد ،،، سینٹری فیوجز اکٹھا کرنے کے لیے زیر زمین اسٹیشن کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ یہ بات آئی اے ای اے کی سربراہ رافائیل گروسی نے منگل کے روز ایک بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے بیان میں کہی۔ ایران نے نطنز کے اسٹیشن پر ہونے والے دھماکے کو تخریب کار حملہ قرار دیا تھا۔

برلن میں دیے گئے انٹرویو میں گروسی کا کہنا تھا کہ ایران نے کم افزودہ یورینیم کی مقدار ذخیرہ کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے تاہم ایسا نظر نہیں آتا کہ تہران کے پاس اتنی مقدار ہے جو جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے کافی ہو۔

جولائی میں نطنز کی جوہری تنصیب پر ہونے والے دھماکے کے بعد تہران نے اعلان کیا تھا کہ وہ پہاڑوں کے درمیان موجود علاقے میں ایک نیا اور زیادہ محفوظ اسٹیشن تعمیر کرے گا۔ سیٹلائٹ سے سے لی گئی نطنز کی تصاویر میں جن کا ماہرین تجزیہ کر چکے ہیں ،،، ابھی تک ایسی کوئی واضح علامت سامنے نہیں آئی ہے کہ یہاں کوئی تعمیر کی جا رہی ہے۔

گروسی کا کہنا ہے کہ "انہوں نے آغاز کر دیا ہے مگر ابھی تک تعمیر مکمل نہیں ہوئی۔ یہ ایک طویل عمل ہے"۔ گروسی کے مطابق "یہ خفیہ معلومات ہیں"۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ابھی تک اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔

نطنز میں ایران میں یورینیم کی افزودگی کی مرکزی تنصیب واقع ہے۔ نطنز 2002ء میں ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے اس وقت مغربی ممالک کے اندیشوں اور تشویش کا محور بن گیا جب سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا کہ ایران یہاں پر زیر زمین تنصیب کی تعمیر کر رہا ہے۔ یہ مقام دارالحکومت تہران کے جنوب میں تقریبا 200 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ سال 2003ء میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی ٹیم نے نطنز کا دورہ کیا۔ یہ تنصیب زمین میں 7.6 میٹر کنکریٹ کے نیچے واقع ہے۔ اس طرح تنصیب کو ممکنہ فضائی حملے سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

سال 2015ء میں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے تحت ایران کو غیر عسکری مقاصد کے لیے افزودہ یورینیم کی ایک متعین مقدار تیار کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے مقابل متعلقہ ممالک نے ایران کو اقتصادی منفعتیں پیش کی تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں یک طرفہ طور پر ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدگی اور ایران پر دوبارہ سے پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد سے معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک جرمنی، فرانس، برطانیہ، روس اور چین اس سمجھوتے کو برقرار رکھنے کے واسطے کوشاں ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی ذخیرہ اندوزی کے لیے یورینیم کے مقررہ حجم کی حد سے تجاوز کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کا مقصد جوہری معاہدے کے دیگر ممالک پر دباؤ ڈالنا تھا۔ تاہم ساتھ ہی تہران نے آئی اے ای اے کی معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی کی بھی اجازت دی جن میں میں نطنز کی تنصیب شامل ہے۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ کے مطابق رواں سال 25 اگست تک ایران کے پاس 2105.4 کلو گرام کم افزودہ یورنیم کی مقدار ریکارڈ کی گئی۔ یہ جوہری معاہدے کے تحت مقررہ حجم سے 202.8 کلو گرام زیادہ ہے۔ اسی طرح ایران 4.5٪ کی سطح پر یورینیم افزودہ کر رہا ہے جب کہ جوہری معاہدے کے تحت تہران کو 3.67٪ کی سطح کی اجازت دی گئی تھی۔

جوہری ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق بین الاقوامی تنظیم کے تجزیے کے مطابق ایران کو گیس کی شکل میں 5٪ کی سطح سے کم پر افزودہ 1050 کلو گرام کے قریب یورینیم کی ضرورت ہو گی۔ اس کے بعد جوہری ہتھیار بنانے کے واسطے 90٪ سے زیادہ کی سطح پر افزودگی کو یقینی بنانا ہو گا۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافائیل گروسی کے مطابق ایجنسی کے موجودہ تجزیے کا نتیجہ یہ ہے کہ فی الوقت ایران یورینیم کی اتنی بڑی مقدار نہیں رکھتا جو ایٹم بن بنانے کے لیے کافی ہو۔

گروسی نے رواں سال اگست میں تہران کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے سینئر ایرانی ذمے داران کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ اس دوران وہ دو جوہری مقامات کے حوالے سے کئی ماہ سے جاری جمود کو توڑنے میں کامیاب رہے۔ ان دونوں مقامات کے بارے میں شبہ ہے کہ ایران یہاں غیر اعلانیہ طور پر جوہری مواد ذخیرہ یا استعمال کر رہا ہے۔

معائنہ کاروں نے ان مقامات سے نمونے حاصل کر لیے ہیں۔ گروسی کا کہنا ہے کہ ان نمونوں کا تجزیہ ابھی جاری ہے۔