.

جدہ میں فرانسیسی قونصل خانے کے محافظ کو چاقو گھونپنے والا سعودی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں پولیس نے فرانسیسی قونصل خانے کے ایک محافظ کو چاقو گھونپنے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق پولیس ترجمان میجر محمد الغامدی نے بتایا ہے کہ ’’محافظ کو تیز دھار آلے سے زخمی کرنے والا سعودی شہری ہے۔زخمی محافظ کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔‘‘

الریاض میں واقع فرانسیسی سفارت خانے نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور ٹویٹرپر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’آج جمعرات کی صبح فرانسیسی قونصلیٹ جنرل میں ایک سکیورٹی محافظ کو چاقو گھونپنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ یہ محافظ ایک نجی سکیورٹی کمپنی کا ملازم ہے اور اس کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں اس کی صحت کی حالت مستحکم ہے۔سعودی سکیورٹی فورسز نے حملہ آور کو فوری طور پر گرفتار کر لیا ہے۔‘‘

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’فرانس کا سفارت خانہ ایک سفارتی مقام پر اس سفاکانہ حملے کی مذمت کرتا ہے اور متاثرہ شخص کی مکمل حمایت کا اظہار کرتا ہے۔وہ سعودی حکام پر بھی اپنے اس اعتماد کا اظہار کرتا ہے کہ وہ اس حادثے کے پس منظری حالات کو بے نقاب کریں گے اور سعودی عرب میں فرانسیسی تنصیبات اور فرانسیسی کمیونٹی کی سکیورٹی کو یقینی بنائیں گے۔‘‘

فرانس میں حملے

سعودی عرب میں اس چاقو حملے سے چندے قبل فرانس کے شہر نیس میں آج تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔وہاں ایک عورت کا سرقلم کر دیا گیا ہے اور دو افراد کو قتل کردیا گیا ہے۔

فرانس کے ایک اور شہر ایویجنن میں ایک شخص نے لوگوں کو چاقو گھونپنے کی دھمکی دی تھی لیکن پولیس نے اس حملہ آور کو گرفتارکر لیا ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا ان واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔

فرانس میں یہ حملے دو ہفتے قبل ایک اسکول کے استاد کے قتل کے واقعے کے بعد پیش آئے ہیں۔سیموئل پٹی نامی اس استاد نے اپنی جماعت میں اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت پر مبنی خاکے دکھائے تھے۔اس پر اس ٹیچر کو ایک اٹھارہ سالہ چیچن نوجوان نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا اور اس کا سر دھڑ سے الگ کردیا تھا۔

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے قتل کے اس واقعہ کو اسلامی دہشت گردی کا شاخسانہ قراردیا تھا اور اسی ہفتے عربی زبان میں ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’’فرانس (اظہاررائے کی آزادی سے) دستبردار ہوگا اور نہ منافرت پر مبنی کو تقریر کو قبول کرے گا۔ وہ عقلی مباحثے کا دفاع کرے گا۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں