.

سعودی عرب اور یو اے ای کی فرانسیسی شہرنیس میں دہشت گردی کے حملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے فرانس کے شہر نیس میں تاریخی نوترے ڈیم چرچ کے نزدیک جمعرات کو دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے وزارت خارجہ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’مملکت دہشت گردی کے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’مملکت انتہا پسندی کی اس طرح کی کارروائیوں کو یکسر مسترد کرنے کا اعادہ کرتی ہے۔ان کا کسی بھی مذہب یا انسانی عقیدوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مملکت ایسی تمام کارروائیوں کو مسترد کرنے پر بھی زور دیتی ہے جن کے نتیجے نفرت ، تشدد اور انتہا پسندی جنم لیتی ہے۔‘‘

یواے ای کی وزارت خارجہ نے بھی نیس میں دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی ہے۔نیس میں چاقو سے مسلح ایک شخص نے تین افراد کو ہلاک کردیا ہے۔اس نے ان میں ایک عورت کا سرقلم کیا ہے اور دو افراد کو چاقو کے پے درپے وار کرکے موت کی نیند سلا دیا ہے۔ فرانسیسی پولیس کے مطابق اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

نیس کی میئرکرسٹیئن اریسٹروسی نے واقعے کو دہشت گردی قراردیا ہے اور کہا ہے کہ حملہ آور ’’اللہ اکبر‘‘ کے نعرے لگا رہا تھا۔ پولیس نے اس کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس اہلکاروں نے اس کو گولی مار دی تھی لیکن اس کی جان بچ گئی ہے ،وہ زخمی ہوا ہے اور اس وقت ایک اسپتال میں زیر علاج ہے۔

فرانس کے ایک اور شہر ایویجنن میں ایک اور شخص نے لوگوں کو چاقو گھونپنے کی دھمکی دی تھی لیکن پولیس نے اس حملہ آور کو گرفتارکر لیا ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔

فرانس میں یہ چاقوحملہ دو ہفتے قبل ایک اسکول کے استاد کے قتل کے واقعے کے بعد پیش آیا ہے۔سیموئل پٹی نامی اس استاد نے اپنی جماعت میں اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پرپیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت پر مبنی خاکے دکھائے تھے۔اس پر اس ٹیچر کو ایک اٹھارہ سالہ چیچن نوجوان نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا اور اس کا سر تن سے جدا کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں