.

فرانس نیس میں’اسلامی دہشت گردی‘کے حملے کے بعد اپنی اقدار سے ہٹے گانہیں:ماکروں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک نیس میں ایک چرچ میں چاقو حملے کے بعد اپنی اقدار سے دستبردار نہیں ہوگا۔انھوں نے واقعہ کو ’’اسلامی دہشت گردی کاشاخسانہ‘‘ قرار دیا ہے۔

صدر ماکروں نے چرچ میں چاقو حملے میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد ملک میں کیتھولک مذہب کے پیروکاروں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے اور تمام مذاہب کے پیروکاروں سے کہا ہے کہ ’’وہ متحد رہیں اور تقسیم کا شکار نہ ہوں۔‘‘

انھوں نے اس طرح کے حملوں سے بچنے کے لیے مزید چار ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس وقت تین ہزار فوجی دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے تعینات ہیں۔اب ان کی تعداد دُگنا سے بھی زیادہ بڑھائی جارہی ہے۔

نیس میں جمعرات کو چاقو سے مسلح ایک شخص نے تین افراد کو ہلاک کردیا ہے۔اس نے ان میں ایک عورت کا سرقلم کیا ہے اور دو افراد کو چاقو کے پے درپے وار کرکے موت کی نیند سلا دیا ہے۔ فرانسیسی پولیس کے مطابق اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

نیس کی میئرکرسٹیئن اریسٹروسی نے واقعے کو دہشت گردی قراردیا ہے اور کہا ہے کہ حملہ آور ’’اللہ اکبر‘‘ کے نعرے لگا رہا تھا۔ پولیس نے اس کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس اہلکاروں نے اس کو پکڑنے کے لیے گولی مار دی تھی لیکن اس کی جان بچ گئی ہے ،وہ زخمی ہوا ہے اور اس وقت ایک اسپتال میں زیر علاج ہے۔

فرانس کے ایک اور شہر ایویجنن میں ایک اور شخص نے لوگوں کو چاقو گھونپنے کی دھمکی دی تھی لیکن پولیس نے اس حملہ آور کو گرفتارکر لیا ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔

فرانس میں یہ چاقوحملہ دو ہفتے قبل ایک اسکول کے استاد کے قتل کے واقعے کے بعد پیش آیا ہے۔سیموئل پٹی نامی اس استاد نے اپنی جماعت میں اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت پر مبنی خاکے دکھائے تھے۔

یہ وہی خاکے تھے جو چند سال قبل فرانس کے طنزیہ جریدے شارلی ایبڈو میں شائع ہوئے تھے۔تاریخ کا مقتول استاد انھیں پھر منظرعام پر لے آیا تھا۔اس پرایک اٹھارہ سالہ چیچن نوجوان نے اس کے بے دردی سے قتل کر دیا تھا اور اس کا سر تن سے جدا کردیا تھا۔پولیس نے جوابی کارروائی میں اس نوجوان کو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا۔

فرانسیسی صدر کی جانب سے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کے جرم کا آزادیِ تقریر کے نام پر دفاع کے بعد مسلم اور مغربی دنیا میں ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے اور بہت سے مسلم اور عرب ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے یا ان کے بائیکاٹ کی اپیلیں کی جارہی ہیں جبکہ اس مسئلہ پر ترکی اور فرانس کے درمیان سفارتی تنازع پیدا ہوچکا ہے اور فرانس نے انقرہ سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں