.

کرونا کی وبا نے مقامی سپلائی چین کی ضرورت بڑھا دی ہے: سعودی وزیر صنعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر برائے صنعت و معدنی وسائل بندر الخوریف نے کہا ہےکہ کرونا کی وبا کا اثر دُنیا کے ممالک پر مختلف سطحوں پر اور متعدد مصنوعات کی طلب و رسد پر پڑا ہے۔ بعض ممالک میں اس کے اثرات دوسرے ملکوں کے معاشی شعبوں پر مختلف انداز میں مرتب ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر کرونا کی وجہ سے عالمی کساد بازاری میں‌ضافہ اور جی ڈی پی میں کمی آئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق ایک بیان میں بندرالخوریف کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ہماری دانش مند قیادت مقامی پیداوار کے حوالے سے غیرمعمولی سنجیدگی سے کام کررہی ہے۔ کرونا کی وبا نے کی وجہ سے قومی پیداوار میں‌اضافے کی اہمیت اور بھی دو چند ہوگئی۔ سعودی عرب کی قیادت قومی پیدوار کو ملکی معیشت کی ترقی کا بنیادی ستون سمجھتے ہوئے وبا کے پیش نظر عالمی سطح پر سپلائی چین میں رکاوٹیں ختم کرنے اور قومی سطح پر سپلائی کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مقامی کارخانوں کو فعال بنانے اور انہیں کرونا کے اثرات سے نکالنے کے لیے ان کی ہرممکن مدد کی ہے جس کے نتیجے میں صنعتی شعبہ دوگنی رفتار سے ترقی کررہا ہے۔

الخوریف نے زور دیا کہ مقامی فیکٹریوں نے پیداواربڑھانے کی اعلی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مقامی کارخانوں میں وبا کے موقعے پر حفاظتی آلات ، جیسے ماسک اور دیگر کو ضروری اشیا تیار کرکے مقامی ضروریات کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وبائی مرض نے صنعت کی ترقی کے منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔ وزارت صنعت قومی پیداوار اور مقامی فیکٹریوں میں شعور اور اعتماد بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ متعدد ممالک کرونا کی وجہ سے خوراک کی قلت جیسے مسائل کا شکار ہوئے ہیں سعودی مملکت اس میدان میں کیسے کامیاب رہی۔ انہوں نے کہا کہ مملکت 40 سال سے زیادہ عرصے میں تعمیر شدہ صنعتی شعبے میں الگ الگ صلاحیتیں رکھتی ہے۔ اس نے معیار اور اعتماد کو ایک ساتھ آگے بڑھایا اور بہت سے شعبوں میں سعودی اور علاقائی صارفین کا اعتماد حاصل کیا۔ آج ہمارے پاس مملکت کے مختلف خطوں میں خوراک کی کی تیاری پر کام کرنے والی 1،400 فیکٹریاں کام کررہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں