.

’’مسلمانوں کو لاکھوں ‌فرانسیسیوں کے قتل کا حق ہے‘‘

ٹویٹر نے مہاتیر محمد کی متنازع ٹویٹ ازخود نوٹس لیتے ہوئے حذف کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے شہر نیس میں جمعرات کے روز ایک خونی حملے کی حمایت پر ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کے خلاف سوشل میڈیا پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ان کے اس متنازع بیان پر ان کے ٹویٹر اکائونٹ پر پوسٹ کردہ ایک متنازع ٹویٹ کو حذف کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ "مسلمانوں کو لاکھوں فرانسیسیوں کو مارنے کا حق ہے "۔ ٹویٹرنے ان کی ٹویٹ حذف کردی۔

خیال رہے کہ کل جمعرات کو اٹلی سے تعلق رکھنے والے ایک تونسی نوجوان نے جنوبی فرانس کے شہر نیس میں ایک چرچ پر حملہ کیا۔ حملہ آور نے کم سے کم ایک کو ذبح کردیا۔

حملے کے فورا بعد مہاتیر محمد، جو فروری میں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے، نے ٹویٹس کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ پیرس کے نواحی علاقے میں فرانسیسی استاد کے سر قلم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس حملے کی حمایت نہیں‌ کرتے لیکن اظہار رائے کی آزادی میں دوسرے لوگوں کی توہین کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔ ان کا اشارہ فرانس میں حالیہ گستاخانہ خاکوں کی طرف تھا۔

چوبیس سال میں دو بار ملائیشیا کے وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے مہاتیر نے کہا کہ فرانسیسی صدر عمانویل میکروں تہذیب وتمدن سے نا آشنا ہیں۔ ان کا طرز عمل انتہائی بچگانہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا فرانسیسیوں کو اپنے لوگوں کو دوسروں کے جذبات کا احترام کرنے کا درس دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک فرانسیسی شخص کی نام نہاد آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا۔ اس کے ردعمل میں فرانس کا معاشی بائیکاٹ کافی نہیں۔ مسلمانوں کو فرانسیسیوں کی غلطیوں کے تدارک کے لیے انہیں سزا دینے کا حق ہے۔