.

سعودی عرب: انسداد بدعنوانی کمیشن کا 123 فوج داری مقدمات کی تحقیقات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے انسداد بدعنوانی و کنٹرول کمیشن کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا ہے کہ کمیشن نے 123 فوج داری کیسز کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ ان کیسز میں کمیشن کے ایک حاضر سروس ملازم اور ایک بلدیہ میں انسداد دست اندازی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین، ایک شہری کی طرف سے بلدیہ کے ملازم کو نوازنے جیسے کیسز نمایاں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسرے کیس میں وزارت انصاف کی مدد سےغیر مجاز طریقے سے جاری کردہ دو بنک چیکوں کی منسوخی شامل ہے جو 169.233.000 مربع میٹر رقبے کے عوض جاری کیے گئے تھے۔ اس کیس میں ایک سابق جج، شوریٰ کونسل کے ایک رکن، ایک گورنری کے سابق سیکرٹری، ایک وکیل اورتین دوسرے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

40 کروڑ ریال کی بدعنوانی کیس

اینٹی کرپشن کمیشن کے مطابق تیسرے کیس میں ایک محکمے کے سابق افسر اور ایک غیر ملکی کمپنی کے ڈائریکٹر کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر مبینہ طور پر چالیس کروڑ ریال کی رقم کمپنی کے فائدے کے لیے بیرون ملک منتقل کرنے اور مارکیٹ ریٹ سے ہٹ کر مملکت میں جائیدادوں کی خریدو فروخت کا الزام ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ چوتھے کیس میں محکمہ تعلیم کے ایک افسر اور ایک عدالتی عہدیدار کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر ملی بھگت سے ملکی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

پانچویں کیس میں پراسیکیوٹر جنرل کے دو ارکان اور وزارت تجارت کے ایک ملازم کے علاوہ دو عام شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر پراسیکیوٹر جنرل کے ہاں منظور شدہ کیس کو ختم کرنے کے لیے رشوت کے طور پر 53000000 ریال کی رقم کا لین دین شامل ہے۔

چھٹے کیس میں بریگیڈیئر اور کرنل کے عہدے کے دو فوجی افسروں پر بھاری رقوم غیر مجاز طریقے سے معاف کرنے کا الزام ہے۔

ساتویں‌ کیس میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں غیرقانونی طریقےسے تبدیل کرنے اور 14 لاکھ ریال کی رقم خورد برد کرنے اور ایک دوسرے کیس میں انہی ملزمان پر 1400000 ریال کی رقم ایک ماہ کے اندر غبن کرنے کا الزام ہے۔