.

سوڈان کا امریکا سے اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان اور امریکا کے درمیان ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے۔اس کے تحت مسلم اکثریت افریقی ملک کا خود مختارانہ استثنا بحال ہوگیا ہے۔

سوڈان کی وزارتِ انصاف کے مطابق اس سمجھوتے کے تحت امریکی عدالتوں میں سوڈان کے خلاف زیر سماعت مقدمات کا تصفیہ کیا جائے گا۔ان میں 1998ء میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکا کے سفارت خانوں پر بم حملوں کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

سوڈان نے ان بم دھماکوں کے مقتولین کے خاندانوں اور مجروحین کو ساڑھے 33 کروڑ ڈالر ادا کرنے سے اتفاق کیا تھا۔سوڈان کے مرکزی بنک نے گذشتہ ہفتے یہ رقوم ان امریکیوں کو منتقل کردی ہیں۔ ان بم دھماکوں کے ہرجانے کی ادائی کے لیے طے شدہ ڈیل کے تحت امریکا سوڈان کا نام دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کر دے گا۔

اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھاکہ امریکا نے سوڈان کے نام کے اخراج کے لیے عمل شروع کردیا ہے۔اس کے بعد کانگریس 45 روز میں ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام پر کوئی اعتراض اٹھا سکتی ہے۔تاہم مائیک پومپیو کے بہ قول کانگریس میں دونوں جماعتوں کے درمیان اس معاملے میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ یہ درست اقدام کیا جانا چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ماہ کہا تھا کہ سوڈان ساڑھے 33 کروڑ ڈالر کی رقم ادا کردیتا ہے تو اس کا نام دہشت گردی کے اسپانسر ممالک کی فہرست سے حذف کردیا جائے گا۔

امریکا نے 1993ء میں سوڈان کو سابق مطلق العنان صدر عمرحسن البشیر کے دورِحکومت میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والاملک قرار دیا تھا۔ تب القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن سوڈان میں مقیم رہے تھےاور وہ وہاں کئی سال تک (اب) برطرف صدرعمر حسن البشیر کے مہمان رہے تھے۔

امریکا کی دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نام کے اخراج کے بعد سوڈان کی خودمختارانہ استثنا بھی بحال ہوجائے گا۔اس وقت اس کی وجہ سے اس کی عبوری حکومت کو معاشی بحران سے نکلنے کے لیے فوری طور پر درکار رقوم تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

سوڈان نے امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے سے بھی اتفاق کیا ہے۔وہ گذشتہ دو ماہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے والا تیسرا ملک بن گیا ہے۔ اس سے پہلے ستمبر میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے امن معاہدے طے کیے تھے۔

یہ دونوں امن معاہدے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پائے تھے اور انھوں ہی نے اسرائیل اور سوڈان کے درمیان تیسرے امن سمجھوتے کا اعلان کیا تھا۔ اگراسرائیل کا آیندہ چند روز میں سوڈان کے ساتھ امن معاہدہ طے پاجاتا ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کو امریکا میں تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے انعقاد سے قبل اپنی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔