.

فرانس نے توہین آمیز خاکوں پرخود کومسلمانوں کے خلاف جنگ میں گھسیٹ لیا: حسن نصراللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے فرانس پر زوردیا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکوں کی حمایت سے دستبردار ہوجائے۔

انھوں نے فرانس سے کہا ہے کہ ’’اس توہین آمیزی اور جارحیت کی اجازت نہ دیں تو ساری دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’فرانسیسی حکام اس مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے اظہار رائے کی آزادی کے نام پر سخت گیری کا مظاہرہ کررہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ان تضحیک آمیزکارٹونوں کو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن تمھیں (آپ کو) اس غلطی کو درست کرنا ہوگا۔‘‘

فرانس میں ایک مرتبہ پھر توہین آمیز خاکوں کی تشہیر کے بعد اسلامی دنیا میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے اسی ماہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ان توہین آمیز کا دفاع کیا ہے۔

واضح رہے کہ فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے نواح میں ایک اسکول میں تاریخ کے استاد نے اکتوبر کے اوائل میں اپنی جماعت میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے دکھائے تھے۔اس پر ایک چیچن نژاد نوجوان طیش میں آگیا تھا اور اس نے 16 اکتوبر کو اس فرانسیسی استاد کا سرقلم کردیا تھا۔فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے مقتول استاد کی حرکت کا اظہار رائے کی آزادی کے نام پر دفاع کیا تھا اور اس کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔

ان کے اس طرزِ عمل کے ردعمل میں حزب اللہ کے سربراہ نے فرانس پر زوردیا ہے کہ’’وہ انصاف اور شفافیت‘‘ کا مظاہرہ کرے کیونکہ دنیا میں کوئی بھی مسلمان ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین برداشت نہیں کرے گا۔‘‘

حسن نصراللہ نے فرانس کے شہر نیس میں جمعرات کو ایک چرچ میں تین افراد کی ہلاکت کی بھی مذمت کی ہے۔ان افراد کو چاقو کے وار سے قتل کرنے والا مشتبہ حملہ آور ایک تُونسی نوجوان ہے۔اس نے ان میں سے ایک عورت کا سرقلم کردیا تھا۔

حسن نصراللہ نے کہا کہ ’’اسلام اس طرح کے واقعے کو مسترد کرتا ہے اور وہ بے گناہ انسانوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا ہے۔‘‘البتہ ان کا کہنا تھا کہ ’’اس واقعہ میں ملوّث نوجوان اگر مسلمان بھی ہے تو کسی کو بھی اس جُرم پر اسلام کو مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔‘‘

انھوں نے فرانس پر زوردیا ہے کہ وہ کشیدگی کو مہمیز دینے میں گریز کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ فرانسیسی حکام نے خود کو اور پورے فرانس کو اس میں الجھا لیا ہے اور وہ پورے یورپ کو بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس لڑائی میں نامعلوم وجوہ کی بنا پر کھینچنا چاہتے ہیں۔‘‘ مگر انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’’وہ اس جنگ میں ہارنے والے ہیں۔‘‘