.

کرونا کا عفریت پھر سے شدت اختیار کرنے لگا ، دنیا کی 'لاک ڈاؤن' کے ذریعے مزاحمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دسمبر 2019ء میں چین میں کرونا وائرس کے نمودار ہونے کے بعد سے اب تک دنیا بھر میں 45,650,850 افراد اس وبائی مرض سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ان میں 1,189,892 افراد موت کا شکار ہوئے جب کہ صحت یاب ہونے والے متاثرین کی تعداد 30,425,200 ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے یہ اعداد و شمار سرکاری طور پر حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر جاری کیے ہیں۔

یہ اعداد و شمار متاثرین کی تعداد کے ایک حصے کے عکاس ہیں اس لیے کہ کئی ممالک میں صرف خطرناک صورت میں ہی کرونا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ اس طرح متعدد غریب ممالک میں ٹیسٹ کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔

گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا کے سبب سب سے زیادہ افراد امریکا میں فوت ہوئے۔ اس کے بعد بھارت اور فرانس کا نمبر ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے ملک بھر میں نئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ جمعرات کے روز سے شروع ہونے والا یہ لاک ڈاؤن 2 دسمبر تک جاری رہے گا۔ جانسن کا کہنا ہے کہ اگر نئے اقدامات نہ کیے گئے تو "ہم اس ملک میں روزانہ کئی ہزار اموات دیکھ سکتے ہیں"۔ انہوں نے آئندہ برس ویکسین کے سامنے آنے کے حوالے سے قوی امید کا اظہار کیا۔

ہفتے کے روز تک برطانیہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس دوران موت کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی انتہائی اضافہ ہوا ہے۔

ادھر امریکا میں جونز ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق ملک میں کرونا وائرس کے 9034295 کیسوں کا اندراج ہو چکا ہے۔ ان میں 229544 متاثرین موت کا شکار ہو چکے ہیں۔

یورپ میں ایک ہفتے کے دوران کرونا کے رجسٹرڈ کیسوں میں 41% کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ تعداد گذشتہ سات روز کے دوران دنیا بھر میں رجسٹر ہونے والے کیسوں کی نصف تعداد ہے۔ براعظم جنوبی افریقا، کیریبین ریجن اور ایشیا کے بعد براعظم یورپ سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔ کرونا کی روک تھام کے لیے آئرلینڈ اور ویلز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فرانس نے بھی ملک میں دوبارہ سے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ پرتگال نے آئندہ بدھ سے ملک میں جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ بیلجیم میں بھی وائرس کے تیزی کے ساتھ پھیلنے کے بعد زیادہ سخت نوعیت کے لاک ڈاؤن کے اشارے مل رہے ہیں۔ ہسپانیہ نے وبائی مرض کی دوسری لہر کا سامنا کرتے ہوئے جمعے کے روز پانچ علاقوں کو بند کر دیا جن میں میڈرڈ شامل ہے۔ عوام نے لاک ڈاؤن کے اقدامات کو نہایت سخت قرار دیتے ہوئے سڑکوں پر آ کر احتجاج بھی کیا۔ اس کے نتیجے میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ یونان میں وزیر اعظم کیریوکس ميٹسوٹیکس نے منگل کے روز سے جزوی لاک ڈاؤن عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران رات میں کرفیو لاگو ہو گا اور دارالحکومت ایتھنز سمیت دیگر شہروں میں دکانیں اور ریستوران بند رہیں گے۔

کینیڈا میں حکام نے جمعے کے روز غیر ملکیوں کے واسطے اپنی سرحدوں کی بندش میں نومبر کے اختتام تک توسیع کا اعلان کر دیا۔

اطالیہ میں جمعے کے روز کرونا وائرس کے 31 ہزار سے زیادہ نئے کیس سامنے آئے۔ یہ ایک دن کے اندر اطالیہ میں سامنے آنے والی متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ملک میں اب تک 38 ہزار افراد اس وبائی مرض کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

چیک ریپبلک میں حکومت نے طبی ہنگامی حالت میں 20 نومبر تک توسیع کر دی ہے۔

چین میں نیشنل ہیلتھ کمیشن نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ ہفتے کے روز ملک میں کرونا وائرس کے 24 نئے کیسوں کا اندراج ہوا۔ ان میں 21 افراد بیرون ملک سے آنے والے اور 3 مقامی افراد ہیں۔ جمعے کے روز 33 نئے متاثرین سامنے آئے تھے۔ چین میں اب تک کرونا وائرس کے 85997 کیس رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ ان میں 4634 افراد موت کا شکار ہوئے۔