امریکا سوڈان سے مصالحت کے بعد دارفرکی پابندیاں ختم کرانے کو تیار: مائیک پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ان کا ملک دارفر کے تنازع پر سوڈان کے خلاف اقوام متحدہ کی عاید کردہ پابندیاں ختم کرانے کو تیار ہے کیونکہ اب سوڈان کی موجودہ حکومت کے دارفر کے باغی گروپوں سے مفاہمتی سمجھوتوں کے بعد وہاں امن قائم ہوچکا ہے۔

مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ سوڈان کی نئی حکومت نے دارفر سمیت ملک کی جنوبی ریاستوں میں انسانی حقوق کی صورت حال میں نمایاں بہتری لائی ہے اور وہاں حالات کی مزید بہتری کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

انھوں نے سوموار کو ایک بیان میں کہا کہ ’’امریکا سوڈانی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بھی مل کر کام کریں گے کہ دارفر کے تنازع کے تعلق سے سوڈان پر عاید کردہ عالمی ادارے کی پابندیوں کو کیسے جلد سے جلد ختم کرایا جاسکتا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’اس مقصد کے پیش نظر ہم نے پہلے ہی اقوام متحدہ میں مشاورت شروع کررکھی ہے۔‘‘

سوڈان کی نئی حکومت نے ایک ماہ قبل دارفر اور دوجنوبی ریاستوں بلیو نیل اور جنوبی کردفان میں برسرپیکار باغی گروپوں کے ساتھ تاریخی سمجھوتوں پر دست خط کیے تھے۔ان کے تحت سوڈان کی مرکزی حکومت ان ریاستوں میں تعمیر وترقی کے منصوبوں پر عمل درآمد کرے گی،مقامی لوگوں کو سرکاری ملازمتیں دی جائیں گی اور ان کے باقی مطالبات کو تسلیم کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ معزول صدر عمر حسن البشیر کی حکومت نے 2000ء کے عشرے کے اوائل میں دارفر میں خود مختاری کے لیے آواز اٹھانے والے مقامی قبائلی گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی کی تھی جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک اور بے گھر ہوگئے تھے۔اس سخت گیر مسلح کارروائی پر سوڈانی حکومت اور فوجی قیادت پر انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر پامالیوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2005ء میں دارفر میں قیام امن کے لیے کوششوں میں حائل ہونے والے کسی بھی شخص پر اسلحہ کی خریدوفرخت اور سفری پابندیاں عاید کردی تھیں اور ایسے مشتبہ سوڈانیوں کے اثاثے منجمد کرلیے تھے۔تب سابق صدر امریکا جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے دارفر میں اس بین الاقوامی اقدام کی حمایت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں