.

ایران کی دوسرے ممالک میں مداخلت سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا: سعودی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزیوں اور دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزیرخارجہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی نظام کی علاقائی اور بین الاقوامی، دونوں سطحوں پر تخریبی سرگرمیوں سے مشرق اوسط کا خطہ عدم استحکام کا شکار ہوا ہے۔

ایران یمن میں حوثی باغیوں اور لبنان میں حزب اللہ سمیت مختلف ممالک میں مسلح ملیشیاؤں کی مددوحمایت کررہا ہے اور وہ ان جنگجو گروپوں کو اپنے تزویراتی اثاثے قرار دیتا ہے۔اس کے علاوہ بین الاقوامی پانیوں میں تجارتی جہازرانی کے لیے بھی خطرہ بنا ہوا ہے۔

شہزادہ فرحان نے ایسے وقت میں ایران کی خطے میں مداخلت سے متعلق یہ بیان جاری کیا ہے جب اس کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے یمن سے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کی جانب بارود سے لدے ڈرونز چھوڑنے اور بیلسٹک میزائل داغنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

عرب اتحاد نے صرف اکتوبر میں حوثیوں کے متعدد ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنانے کی اطلاع دی ہے۔عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ یمنی حوثی جان بوجھ کر سعودی عرب کے شہری علاقوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔