.

شہریوں ‌پر بلا امتیاز حملے، کاراباخ میں جنگی جرائم کا ارتکاب ہوسکتا ہے: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آرمینیا اور آذر بائیجان کی جانب سے متنازع علاقے ناگورنو کاراباخ میں عام شہریوں پر بلا امتیاز حملوں اور بمباری کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جس سے یہ اندیشہ پیدا ہوا ہے کہ کاراباخ میں جنگی جرائم کا ارتکاب ہوا ہو گا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی ہائی کمیشنر میشل باشلے نے بتایا کہ ناگورنا کاراباخ کے علاقے میں آرمینیا اور آذربائیجان کی افواج کے درمیان جاری لڑائی کے دوران عام شہریوں کو بلا امتیاز نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے نتیجے میں جنگی جرائم کا ارتکاب ممکن ہے۔

انہوں نے ایک ویڈیو کو بہ طور ثبوت پیش کیا جس میں آذر فوج کے ہاتھوں آرمینیا کے دو فوجیوں کو بے دردی کے قتل کرتے دکھایا گیا ہے۔

ادھر متنازع صوبے ناگورنو کاراباخ کی وزارت دفاع نے سوموار کے روز جاری ایک بیان میں بتایا کہ لڑائی کے دوران اس کے11 مزید فوجی بھی لا پتا ہیں جبکہ 27 ستمبرکے بعد سے جاری حملوں میں اب تک 1177 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ دونوں‌ ملکوں‌ کے درمیان سنہ 1990ء‌سے جاری لڑائی کے دوران اب تک 30 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

اتوار کے روز آذربائیجان کے صدر آرمینیا پر حملے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب روس کی طرف سے آرمینیا کو مدد فراہم کرنے کی یقین دہائی کرائی گئی تھی۔

آذربائیجان کے ایوان صدر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر الھام علیوف نے ترک ویر خارجہ مولود جاووش اوگلو سے ملاقات کے دوران کہا کہ آذربائیجان کی مسلح افواج اپنے علاقے میں فوجی کارروائی کررہی ہیں۔ ہم اس طرح کا آپریشن آرمینیا کی اراضی میں داخل ہو کر نہیں کریں گے۔

آرمینیا کے وزیراعظم نیکول باشینیان نے ہفتے کے روز روسی صدر ولادی میر پوتین سے فوری مشاورت شروع کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ آذر بائیجان کی جانب سے مزید پیش قدمی کی صورت میں باکو کے خلاف حکمت عملی طے کی جا سکے۔