.

ترک گروپ پر پابندی؛ فرانس اور ترکی میں ایک نیا سفارتی معرکہ ٹھن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکومت نے فرانس کی جانب سے "سلیٹی بھیڑئیے"نامی ترک گروپ پر پابندی لگانے کا بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس گروپ کے مالک کو ترک صدر طیب ایردوآن کا قریبی ساتھی بتایا جاتا ہے۔

"گرے وولوز "کا تعلق دائیں بازو کی جماعت نیشنلسٹ مومنٹ پارٹی کا حصہ تصور کی جاتی ہے۔ نیشنلسٹ پارٹی نے ترک پارلیمان میں طیب ایردوآن کی جماعت آق پارٹی سے الحاق کیا ہوا ہے۔

ترک صدر طیب ایردوآن اور ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانویل ماکروں کے درمیان مختلف تنازعات کو لے کر اختلاف قائم رہا ہے جس میں سب سے حالیہ اضافہ فرانس کی جانب سے "شدت پسند اسلام" کے خلاف جنگ پر اختلاف رائے شامل ہے۔

ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ماکروں حکومت کو فرانس میں موجود ترک باشندوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ ہم فرانسیسی حکومت کے اس فیصلے کا بھرپور جواب دیں گے۔

فرانسیسی کابینہ نے ایک اجلاس کے دوران گرے وولوز کمپنی کی مقامی برانچ پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ اقدام پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیائی قتل عام کے حوالے سے منعقد کی جانے والی ایک یادگار کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اٹھایا گیا۔ اس یادگار پر گرے وولوز کمپنی کو درج کر کے باقی تمام یادگار کو مسخ کر دیا گیا تھا۔

فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارمینن نے بتایا کہ "اس ترک کمپنی کو عصبیت اور شدت پسندی پھیلانے کی وجہ سے پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔"

ترک وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں فرانس میں ایسے کسی گروپ کی موجودگی سے مکر گئے اور کہا کہ فرانس ایک خیالی گروپ کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ فرانس میں ترک باشندوں کی آزادی اظہار رائے کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔