.

فرانس میں حالیہ حملوں کے بعد سرحدوں پر کنٹرول کو مزید مضبوط بنایا جائے گا: صدر ماکروں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے کہا ہے کہ مختلف شہروں میں حالیہ حملوں کے بعد ملک کی سرحدوں پر کنٹرول کو مضبوط بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایک چیچن نژاد نوجوان نے 16 اکتوبر کو فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے نواح میں واقع ایک اسکول کے استاد کا توہین آمیز خاکے دکھانے کے الزام میں سرقلم کردیا تھا۔تاریخ کا مضمون پڑھانے والے اس استاد نے اکتوبر کے اوائل میں اپنی جماعت میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے دکھائے تھے۔

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے مقتول استاد سیموئل پٹی کی اس حرکت کا اظہار رائے کی آزادی کے نام پر دفاع کیا تھا اور اس کو خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔ان کے اس طرزِعمل پر اسلامی دنیامیں سخت غیظ وغضب پایا جارہا ہے اور احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے کے روز فرانس کے شہر لیون میں ایک مسلح شخص نے ایک چرچ میں آرتھوڈکس پادری کو گولی ماردی تھی جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا تھا۔فائرنگ کرنے والا حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

اس واقعے سے دوروز قبل فرانس کے شہر نیس میں ایک گرجا گھر میں ایک تُونسی نوجوان نے تین افراد کو چاقو کے وار کرکے قتل کردیا تھا۔اس حملے کے الزام میں فرانسیسی حکام نے تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔

بعض فرانسیسی وزراء نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ ملک میں اسلامی جنگجوؤں کے مزید حملوں کا خطرہ ہوسکتا ہے۔فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے مذکورہ واقعے کے بعد عبادت گاہوں اور اسکولوں کے باہر مزید چار ہزار فوجی تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔