.

جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات پر کوسوو کے سبکدوش صدر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کوسوو کے مستعفی صدر ہاشم تاجی کو جمعرات کی شام ہیگ میں گرفتار کرنے کے بعد جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ان پر سربیا کی افواج کے ساتھ لڑائی کے دوران جنگی جرائم کے مرتکب کا الزام ہے۔ ان کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی ٹریبونل تشکیل دیا گیا تھا جس نے حال ہی میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

دی ہیگ میں کوسوو کی خصوصی عدالت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دس سال سے زیادہ عرصہ اقتدار میں رہنے والی علیحدگی پسند کوسوو لبریشن آرمی کے سابق سیاسی رہ نما کو تین دیگر ملزمان کے ساتھ ڈچ شہر میں عدالت کے "حراستی مرکز" میں منتقل کردیا گیا ہے۔ 52 سالہ ہاشم تاجی نے جمعرات کے روز صدر اور کوسوو کے عوام کے وقار کے دفاع کے لیےصدارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

دیگر ملزمان میں کوسوار ملیشیا کے سابق ترجمان جیکب کراسنگی جو تاجی کے قریب ترین سیاسی حلیفوں میں سے ایک ہیں اور سابق ملیشیا میں انٹلیجنس ڈائریکٹر کدری ویسیلی کے علاوہ وہاں کی ایک سابق ممتاز شخصیت رجب سلیمی شامل ہیں۔

چاروں افراد پر مارچ 1998 اور ستمبر 1999 کے درمیان اجتماعی قتل عام کی 100 کارروائیوں، تشدد اور ظلم و ستم کے ذمہ دار ہونےکا الزام ہے۔