.

صنعاء میں یمنی یوٹیوبر کی شادی کی تقریب نے حوثی ملیشیا کو بوکھلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صنعاء میں حوثی ملیشیا نے جمعے کی شام معروف یمنی یوٹیوبر مصطفی المومری کو اپنی شادی کی تقریب منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس سے قبل ہزاروں افراد اس تقریب میں شرکت کے لیے پہنچ چکے تھے۔

خبروں سے متعلق مقامی ویب گاہوں کے مطابق حوثی ملیشیا نے المومری کی شادی میں شرکت کے لیے آنے والے عوام جتھوں کو دیکھ کر سیکورٹی الرٹ اور ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر مقررہ شادی ہال پورا بھر چکا تھا جس کے سبب مجمع کو ملحقہ میدان میں منتقل کیا گیا۔ حوثی ملیشیا نے اتنا بڑا مجمع دیکھ کر فوری طور پر نوجوان دولہا مصطفى المومری کے گھر کا رخ کیا۔ بعد ازاں باغیوں نے المومری کو ایک وڈیو ریکارڈ کرنے پر مجبور کر دیا جس میں وہ اپنی شادی کی تقریب منسوخ کرنے کا اعلان کرے۔

ذرائع کے مطابق حوثی قیادت ایک ٹیوبر کی شادی میں شرکت کے لیے اتنی بڑی تعداد میں یمنی عوام کے پہنچنے پر خوف کا شکار ہو گئی۔ یہ حوثی سرغنے عبدالملک الحوثی کے منہ پر ایک طمانچہ تھا کہ حوثی ملیشیا اسلحے کے زور پر ڈرا دھمکا کر بھی اتنا بڑا مجمع جمع نہیں کرپاتی۔

مصطفی المومری ایک یمنی یوٹیوبر ہے جس کے یوٹیوب پر 8 لاکھ کے قریب سبسکرائبرز ہیں۔ المومری کی جانب سے کی جانے والی تنقید عوام کی ترجمانی کرتی ہے۔ یمنیوں کی ایک بڑی تعداد ان وڈیوز کو پسند کرتی ہے۔