فرانس: زیادتی کا الزام عائد کرنے والی خاتون کا نام ظاہر کرنے پر طارق رمضان پر جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پیرس میں فرانس کی ایک عدالت نے الاخوان المسلمون تنظیم کے بانی کے نواسے طارق رمضان پر مالی جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ طارق کو ایک خاتون کا نام ظاہر کرنے کی پاداش میں عدالت نے جمعے کے روز 3 ہزار یورو بطور جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا جس میں 2 ہزار یورو کو معلق کر دیا گیا۔

یہ خاتون ان پانچ خواتین میں شامل ہے جنہوں نے طارق پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ان خواتین کو مختلف وقتوں میں آبرو ریزی کا نشانہ بنایا۔ نام ظاہر کرنا فرانسیسی قانون کی خلاف ورزی ہے جو زیادتی کا شکار افراد کو "انتقامی کارروائی یا تنگ کیے جانے سے" تحفظ فراہم کرتا ہے۔

طارق نے 2019ء میں ایک کتاب میں اور اسی طرح ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران مذکورہ خاتون کے پورے نام کا انکشاف کیا تھا۔

فرانسیسی صحافت میں اس خاتون کو صرف "كريسٹل" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ خاتون کا دعوی ہے کہ طارق نے 2009ء میں لیون شہر کے ایک ہوٹل میں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

طارق رمضان آکسفورڈ یونیورسٹی میں بطور پروفیسر فرائض انجام دے رہا تھا۔ تاہم 2017ء میں خواتین کی جانب سے عصمت دری کے الزامات کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد وہ طویل رخصت لینے پر مجبور ہو گیا۔

گذشتہ ماہ پانچویں خاتون کی جانب سے طارق کے خلاف جنسی حملے کا الزام سامنے آیا۔

اس کے بعد چار بچوں کے باپ طارق رمضان نے پہلی مرتبہ ماورائے ازدواج تعلقات کا اعتراف کیا۔ تاہم طارق کا اس بات پر زور رہا کہ یہ تعلقات فریقین کی "رضا مندی" سے قائم ہوتے تھے۔

جمعے کے روز عدالت نے طارق اور اس کی کتاب شائع کرنے والے ادارے کو حکم دیا کہ وہ "کرسٹل" کو 5 ہزار یورو بطور زر تلافی ادا کریں۔

طارق رمضان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں