.

ترکی میں مالی بحران پر قابو پانے میں ناکامی؟صدر طیب ایردوآن کے داماد وزیرخزانہ مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر خزانہ اور صدر رجب طیب ایردوآن کے داماد بیرات البیرق اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔انھوں نے مبیّنہ طور پر ملک میں جاری مالی بحران پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے استعفا دیا ہے مگر انھوں نے انسٹاگرام پر جاری کردہ بیان میں لکھا ہے کہ وہ خرابیِ صحت کی بنا پر عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ’’منصبِ وزارت پر کوئی پانچ سال تک فائز رہنے کے بعد میں نے صحت کے مسائل کی وجہ سے (وزیرخزانہ) کی حیثیت سے اپنے فرائض جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘وہ مزید لکھتے ہیں کہ وہ اب اپنے خاندان کے ساتھ مزید وقت گزاریں گے، جسے وہ نظرانداز کرتے رہے ہیں۔

آیا ان کا استعفا منظور کر لیا گیا ہے یا نہیں،اس کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ان سے پہلے اس سال کے اوائل میں ترک وزیرداخلہ سلیمان سوئلو بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے لیکن صدر ایردوآن نے ان کا استعفا منظور نہیں کیا تھا اور وہ آج تک اس منصب پر فائز چلے آرہے ہیں۔

بیرات البیرق ترک صدر کی بڑی بیٹی ایسریٰ سے بیاہے ہوئے ہیں۔وہ 2018ء سے ترکی کے وزیر خزانہ چلے آرہے تھے۔اس سے پہلے وہ 2015ء سے 2018ء تک توانائی کے وزیر رہے تھے۔

ان کے مستعفی ہونے سے ایک روز قبل ہی صدر طیب ایردوآن نے ترکی کے مرکزی بنک کے گورنر کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔وہ ڈالر کے مقابلے میں ترک لیرا کی گرتی ہوئی قدر پر قابو پانے میں ناکام رہے تھے۔اس سال اب تک ترک لیرا ڈالر کے مقابلے میں 30 فی صد قدر کھو چکا ہے۔

صدر ایردوآن نے سابق وزیرخزانہ ناجی اگبل کو مرکزی بنک کا نیا گورنر مقرر کیا ہے۔ان کے پیش رو برطرف گورنر مراد یوصل سولہ ماہ تک عہدے پر فائز رہے تھے۔ واضح رہے کہ ان کے پیش رو سابق گورنر بنک دولت ترکی مراد چیتنکایا کو بھی صدر نے 2019ء میں برطرف کردیا تھا۔