.

پومپیو اور خامنہ ای کے بیچ ٹویٹر پر بیانات کی جنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ایک طرف جو بائیڈن کی جیت کے اعلان کے ساتھ صدارتی انتخابات کا مرحلہ اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے جب کہ دوسری جانب ٹویٹر کے میدان میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے درمیان الفاظ کے ذریعے معرکہ آرائی دیکھی جا رہی ہے۔

ایران کے اعلی ترین منصب پر فائز رہبر اعلی نے امریکا میں لبرل ڈیموکریسی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے ایران میں آزادی کے مفقود ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے باور کرایا کہ وہاں ہونے والے انتخابات محض ایک مذاق ہیں۔

اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں مائیک پومپیو نے علی خامنہ ای کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "سیکڑوں امیدواروں کو بے دخل کرنے کے بعد آپ کے انتخابات ایک مذاق رہ جاتا ہے"۔

پومپیو نے ایرانی رہبر اعلی پر عوام کا مال لُوٹنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کے عوام بھوک سے بلبلا رہے ہیں کیوں کہ آپ لوگ اپنے بدعنوان نظام کے تحفظ کی خاطر اپنے ایجنٹوں اور پروکسی جنگوں پر کروڑوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں"۔

امریکا تہران پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ اپنے ایجنٹوں اور ملیشیاؤں کے ذریعے شام، یمن، عراق اور دیگر علاقوں میں جاری تنازعات میں مداخلت کے ساتھ خطے کا امن برباد کر رہا ہے۔ ایران کی جانب سے جن ملیشیاؤں کو فنڈنگ کی جاتی ہے ان میں لبنانی حزب اللہ سرفہرست ہے۔ رواں سال جون میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں اس نتیجے پر پہنچا گیا تھا کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے کئی حملوں میں استعمال کیے گئے کروز میزائل "ایرانی ساختہ" ہیں۔

جو بائیڈن کی جیت کے ساتھ ہی ایران کی نظریں امریکی پالیسی میں تبدیلی کی راہ تک رہی ہیں جو تہران کو سانس لینے کی مہلت دے دیں۔ تاہم متعدد امریکی مبصرین کو توقع ہے کہ ایران کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آنے والی۔

واضح رہے کہ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن اس سے پہلے یہ بیان دے چکے ہیں کہ اگر ایران نے 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی مکمل پاسداری کی تو امریکا ایک بار پھر اس معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔ تاہم سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں کے غالب گمان کے مطابق ایسا راتوں رات ہونے والا نہیں۔