.

آذربائیجان کی روس سے فوجی ہیلی کاپٹرمارگرانے پر معذرت، معاوضے کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمہوریہ آذربائیجان نے آرمینیا کی سرحد پر روس کا ایک فوجی ہیلی کاپٹر مارگرانے کا اعتراف کیا ہے۔اس نے اس الم ناک حادثے پر روس سے معذرت کی ہے اور اس کو جانی اور مالی نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضے کی پیش کش کی ہے۔

آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے سوموار کی شب ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ واقعہ ایک حادثہ تھا اور اس کا مقصد روس کو کسی طرح نقصان پہنچانا نہیں تھا۔اس نے روس کو ہرجانہ ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید وضاحت کی ہے کہ روس کا فوجی ہیلی کاپٹر تاریکی کے اوقات میں آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان واقع سرحدی علاقے کی فضائی حدود میں انتہائی نچلی سطح پر پرواز کررہا تھا جبکہ قبل ازیں روسی فضائیہ کے ہیلی کاپٹر اس علاقے میں نہیں دیکھے گئے ہیں۔

اس سے پہلے روس کی وزارت دفاع نے یہ اطلاع دی تھی کہ ایک فوجی ہیلی کاپٹر ایم آئی 24 آذربائیجان کی سرحد کے نزدیک آرمینیا کی فضائی حدود میں مارگرایا گیا ہے۔اس میں سوار عملہ کے دورارکان ہلاک اور ایک رکن زخمی ہوگیا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’روس کے ایم آئی 24 ہیلی کاپٹر کو زمینی فضائی دفاعی نظام سے نشانہ بنایا گیا ہے۔اس وقت ہیلی کاپٹر آرمینیا میں روس کے 102ویں فوجی اڈے سے تعلق رکھنے والے گاڑیوں کے قافلے کی فضائی نگرانی کررہا تھا۔ اس کوخود مختار جمہوریہ آذربائیجان کے علاقے نخچیوان کی سرحد کے ساتھ واقع آرمینیا کے علاقے یراسخ کی فضا میں ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا ہے۔‘‘

تاہم روسی وزارت دفاع نے یہ وضاحت نہیں کی تھی کہ فوجی گاڑیوں کا یہ قافلہ سرحدی علاقے میں کیا کررہا تھا اور اس کو وہاں بھیجنے کا کیا مقصد تھا جس کی یہ تباہ شدہ فوجی ہیلی کاپٹرنگرانی کررہا تھا۔آرمینیا میں روس کا ایک بڑا فوجی اڈا موجود ہے لیکن یہ ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے کی جگہ سے کوئی 150کلومیٹر (90 میل) دور واقع ہے۔

نخچیوان متنازع علاقہ ناگورنوقراباغ سے قریباً 70 کلومیٹر دور واقع ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ روس کے مارگرائے گئے فوجی ہیلی کاپٹر کا ناگورنوقراباغ میں جاری لڑائی سے بھی کوئی تعلق ہے۔

ناگورنو قراباغ میں آرمینیائی نسل کی انتظامیہ کے تحت فوج اور آذربائیجان کی فوج کے درمیان 27 ستمبر سے لڑائی جاری ہے۔اس میں اب تک سیکڑوں فوجی اور عام افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ترکی اس لڑائی میں آذر بائیجان کی بھرپور حمایت کررہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ناگورنو قراباغ کا کنٹرول آذربائیجان کے حوالے کیا جانا چاہیے جبکہ آرمینیا اس متنازع علاقے کی آرمینیائی نسل پر مشتمل انتظامیہ کی حمایت کررہا ہے۔

واضح رہے کہ ناگورنو قراباغ کا علاقہ آذربائیجان میں واقع ہے لیکن اس پر آرمینیائی نسل کی فورسز کا 1994ء سے کنٹرول چلا آرہاہے۔آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان 1991ء میں سابق سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے اس علاقے پر کنٹرول کا تنازع چل رہا ہے۔

1990ء کے عشرے کے اوائل میں ناگورنو قراباغ نے آذر بائیجان کے خلاف جنگ کے بعد اپنی آزادی کا اعلان کردیا تھا۔اس لڑائی میں 30 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تین سال کے بعد 1994ء میں آرمینیا اور آذربائیجان میں جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا مگر اس کے باوجود اپریل 2016ء میں دوبارہ قراباغ میں لڑائی چھڑ گئی تھی۔

آرمینیائی وزیراعظم نیکول پیشنیان ترکی کو اپنے ملک کے آذربائیجان کے ساتھ جاری اس مسلح تنازع کا ذمے دار قراردیتے ہیں۔انھوں نے گذشتہ ہفتے العربیہ سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’اگر ترکی اس معاملے میں مداخلت نہیں کرتاتو ان کے ملک کا آذربائیجان کے ساتھ تنازع بھی نہیں ہوتا۔‘‘

انھوں نے کہا:’’اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ترکی نے جنگجوؤں اور دہشت گردوں کو بھرتی کیا اور انھیں جنگ میں جھونکنے کے لیے شام سے آذربائیجان میں منتقل کیا ہے۔‘‘

وزیراعظم نیکول نے الزام عاید کیا تھا کہ ’’ناگورنوقراباغ میں جاری فوجی کارروائی ترکی کی توسیع پسندانہ پالیسی کا حصہ ہے اور وہ اس پالیسی کے تحت مشرقِ اوسط میں سلطنتِ عثمانیہ کی بحالی چاہتا ہے۔‘‘

تاہم ترکی متعدد مرتبہ آذربائیجان کی مدد کے لیے ناگورنوقراباغ کے متنازع علاقہ میں شامی جنگجوؤں کو بھیجنے سے متعلق دعووں کی تردید کرچکا ہے۔البتہ اس کا کہنا ہے کہ آذربائیجان اگر فوجی مدد کی درخواست کرتا ہے تو ترکی اپنے فوجی بھیجنے میں کسی تردد کا مظاہرہ نہیں کرے گا مگر اس کے بہ قول اب تک باکو حکومت نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی ہے۔