.

’’امریکا ایران کے خلاف عاید کردہ پابندیاں ہٹائے اور ان پر پچھتاوے کا اظہار کرے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کو ایران کے خلاف پابندیاں عاید کرنے پر ’’پچھتاوا‘‘ ہونا چاہیے، وہ ان پابندیوں کو فی الفور ہٹائے اور اس کے خلاف برپاکردہ’’معاشی جنگ‘‘ روک دے۔

یہ بات ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکا میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جوزف بائیڈن کی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست سے دوچار کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے سرکاری ٹیلی ویژن نیٹ ورک العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ایران نے مطالبات کی ایک فہرست تیار کر لی ہے۔نومنتخب صدر جوبائیڈن کو اسلامی جمہوریہ کے نقصانات کے ازالے کے لیے ان مطالبات کو پورا کرنا ہوگا۔‘‘

انھوں نے اس فہرست کی مزید وضاحت تو نہیں کی ہے لیکن ایرانی حکام حالیہ مہینوں کے دوران میں امریکا سے یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ وہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا ازالہ کرے،اس ڈیل سے دوبارہ نہ نکلنے کا پختہ عزم کرے اور ایران کے خلاف عاید کردہ تمام پابندیوں کو فی الفور ہٹائے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی 2018ء میں ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہوگئے تھے اور انھوں نے اس کے بعد ایران کے خلاف پے درپے سخت اقتصادی پابندیاں عاید کی ہیں جس کے نتیجے میں اس کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے اور ایرانی عوام گوناگوں مسائل سے دوچار ہیں۔ ایرانی قیادت امریکا کی ان پابندیوں کو ملک کے خلاف معاشی جنگ کا نام دیتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے گذشتہ دوایک ماہ میں ایران کی وزارت دفاع سمیت بعض اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عاید کردی تھیں۔امریکا کی یہ پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے اور اس کو دیوار سے لگانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ان کا مؤقف ہے کہ ان کی پابندیوں کا ہدف تو دراصل ایرانی نظام ہے۔

تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے حال ہی میں امریکا کے ایماء پر ایران کے خلاف جوہری پروگرام کے تعلق سے نئی پابندیاں عاید کرنے سے انکار کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جوہری سمجھوتے سے انخلا کے بعد امریکا کے پاس ایران کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کا کوئی جواز نہیں رہا ہے۔

امریکا نے سابق صدر براک اوباما کے دورِ حکومت میں پانچ دوسری عالمی طاقتوں سے مل کر ایران کے ساتھ جولائی2015ء میں جوہری سمجھوتے پر دست خط کیے تھے۔ تب جوزف بائیڈن امریکا کے نائب صدر تھے۔وہ حالیہ صدارتی انتخابات کے لیے مہم کے دوران میں دوبارہ اس جوہری سمجھوتے میں شمولیت کا اعلان کرچکے ہیں۔

سعید خطیب زادہ کا انٹرویو میں مزید کہنا تھا کہ ’’امریکا ایران سے کسی بھی ممکنہ بات چیت کے لیے پیشگی شرائط عاید کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے نتیجے میں ایران اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرچکا ہے۔امریکا کو اب ان نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا۔

انھوں نے واضح کیا کہ ایران جو بائیڈن اور امریکا کے موجودہ ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان واضح اختلافات کو تسلیم کرتااور سمجھتا ہے لیکن اب ہم عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔

ایران کے اوّل نائب صدر اسحاق جہانگیری نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’’ تہران بائیڈن انتظامیہ کے تحت امریکا کی ’’تخریبی پالیسیوں‘‘ میں ایک تبدیلی دیکھنا چاہتا ہے۔‘‘