.

العربیہ کے جوبائیڈن سے متعلق مضمون پر’’ڈس انفارمیشن‘‘مہم؛ہدف امریکا، سعودی تعلقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کے بارے میں العربیہ کے ایک مضمون کو سمجھے بغیر الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے وابستہ ایک صحافی نے ڈس انفارمیشن کی مہم برپا کردی ہے۔ ان کے بہ قول جو بائیڈن کے کتوں کی وائٹ ہاؤس میں واپسی سے متعلق اس مضمون میں دراصل ڈیموکریٹک نومنتخب صدر کی توہین کی گئی ہے۔اس طرح الجزیرہ سے وابستہ اس صحافی نے گویا پیالی میں طوفان اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

گذشتہ منگل کے روز امریکا میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کی جیت کے بعد سے عالمی میڈیا میں ان کے بارے میں مختلف مضامین لکھے اور شائع کیے جارہے ہیں۔سعودی عرب کے ملکیتی العربیہ نیوزچینل کی ویب گاہ پر بھی ایسا ایک مضمون شائع کیا گیا ہے اور اس میں ذرا مزاح کے انداز میں یہ کہا گیا تھا کہ جو بائیڈن کی جیت کے بعد اب ان کے دونوں کتے بھی وائٹ ہاؤس پہنچ جائیں گے۔یہ دونوں جرمن شیفرڈ ہیں۔ان میں ایک کا نام چیمپ اور دوسرے کا نام میجر ہے۔

العربیہ نے عربی زبان میں اس مضمون میں یہ سرخی جمائی تھی:(ترجمہ) ’’کتے وائٹ ہاؤس میں واپس آگئے‘‘اس کے ساتھ جوبائیڈن اور ان کے ایک کتے کی تصویر لگائی گئی تھی۔اس سرخی میں جوبائیڈن کی انتخابی مہم کے ایک اشتہار کا حوالہ دیا گیا تھا۔اس میں یہ لکھا تھا کہ ’’آئیں کتوں کو واپس وائٹ ہاؤس لے جائیں۔‘‘اس میں بھی جوبائیڈن کے ساتھ ان کے ایک کتے کی تصویر تھی۔

العربیہ نے بعد میں اس مضمون سے متعلق ٹویٹ کو حذف کردیا تھا لیکن اس نے کہا تھا کہ وہ اس مضمون سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہے کیونکہ اس میں تو واضح طور پر جوبائیڈن کے پالتو کتوں کا حوالہ دیا گیا تھا اور ان کا ذاتی طور پر ہرگز بھی نہیں۔

العربیہ کے سوشل میڈیا مینجر امجد سمحان نے لکھا:’’ ہم اس اسٹوری پر مکمل طور پر قائم ہیں اور کسی بھی ٹویٹ کو حذف نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔دراصل سوشل میڈیا کی ٹیم کے ایک رکن نے مذکورہ بالا ٹویٹ کوحذف کیا تھا۔انھیں یہ خدشہ محسوس ہواتھا کہ اس ٹویٹ کو غلط سمجھا جاسکتا ہے۔اسٹوری کی سرخی اور مضمون روز روشن کی طرح عیّاں تھے اور ان پر تو کسی بحث کی گنجائش ہی نہیں تھی۔‘‘

لیکن اتوار کو قطری صحافیہ ریم الحرمی نے اس سرخی کو بائیڈن کی توہین پر مبنی قراردیا اور اس مضمون کا امریکا، سعودی تعلقات سے ناتا جوڑ دیا۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا:’’سعودی ملکیتی العربیہ ٹی وی اور اخبار الشرق الاوسط پیشہ واریت کی کمی کی وجہ سے مزید گرگئے ہیں۔انھوں نے جوبائیڈن کے بارے میں اس سرخی کے تحت ایک اسٹوری چلائی ہے:’’ کتے وائٹ ہاؤس میں واپس آگئے۔اس طرح انھوں نے نومنتخب صدر کی توہین کی ہے۔‘‘

قطری نیوز چینل الجزیرہ سے وابستہ صحافی جمال الدین الشیال نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مضمون کے عنوان کا مقصد جوبائیڈن کی توہین تھا اور اس سے متعلق ٹویٹ کو حذف کیا جانا اس امر کا ثبوت ہے۔

نیویارک ٹائمز سے وابستہ صحافی نیکولس کرسٹوفر نے ان الزامات کو ری ٹویٹ کیا تھا لیکن پھر اپنی ٹویٹ کو حذف کردیا تھا جبکہ سوشل میڈیا کے صارفین نے یہ ان دعووں کے بارے میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ اصل مضمون سے ہٹ کر کیسے تبصرے کیے جارہے ہیں اور اس کی غلط نمایندگی کی جارہی ہے۔

ایران نواز شخصیات نے اس اسٹوری کو کیسے پھیلایا؟

ان تمام دعووں کو قومی ایرانی امریکی کونسل (نیاک) کے بانی تریتاپارسی نے ری ٹویٹ کیا تھا۔ان پر ایرانی حکومت کے لیے کام کرنے کا الزام ہے۔

پارسی نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’’ سعودیوں نے جوبائیڈن سے سلسلہ جنبانی شروع کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھایا ہے ۔وہ یوں کہ ان کی توہین کی ہے اور انھیں ایک کتا قرار دیا ہے۔‘‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا ڈویژن کی سابق ڈائریکٹر سارہ لیہ وٹسن بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہی ہیں۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں اس اسٹوری کو دُہرایا ہے اور سعودی عربیوں کو پست ذہن اور غیر منظم قرار دے کران کی توہین کی ہے۔‘‘

وٹسن نے ایک ٹویٹ میں لکھا:’’ان ’’کتوں‘‘ کے امریکی فوجی برسرزمین موجود ہیں۔وہ سعودی عرب کو تحفظ مہیا کررہے ہیں کیونکہ ان کے اپنے ہم وطن اس کے اہل نہیں ، وہ بہت کم زور ہیں،وہ انتہائی غیرمنظم ہیں ،انتہائی غیرتربیت ہیں ،انتہائی پست ذہن ہیں اور وہ یہ کام نہیں کرسکتے۔‘‘

اس کے فوری بعد وٹسن نے تین ’’قاعدے‘‘ ٹویٹ کیے ہیں اور یہ کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کو ان کی پیروی کرنی چاہیے،انھوں نے یہ سفارش کی ہے کہ سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت بند کردی جائے۔تاہم انھوں نے سوموار کی سہ پہر اپنی اس ٹویٹ کو حذف کردیا ہے۔

العربیہ انگلش نے جب مس وٹسن سے اس پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا تو انھوں نے اس تحریر کی اشاعت تک کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

ڈس انفارمیشن مہم

پارسی اور وٹسن کے اس نقطہ نظر کے ردعمل میں العربیہ انگلش کے چیف ایڈیٹر محمدالیحییٰ نے اس اسٹوری کی وضاحت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا ہرگز بھی مقصد جوبائیڈن کی توہین نہیں تھا۔انھوں نے ان کے تبصروں کو ڈس انفارمیشن کی مذموم مہم کا شاخسانہ قراردیا ہے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ زیر بحث’’مضامین وائٹ ہاؤس میں پالتو جانوروں کی موجودگی سے متعلق تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ اب وائٹ ہاؤس میں ایک مرتبہ پھر پالتو جانور ہوں گے کیونکہ نومنتخب صدر بائیڈن کے خاندان کے پاس کتے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ کے پاس کوئی کتا نہیں تھا۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں