.

امریکا کے ایران پر دباؤ میں اضافہ؛4 افراد اورمختلف ملکوں کی 6 کمپنیوں پر پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والی چھے کمپنیوں اور چار افراد پر نئی پابندیاں عاید کردی ہیں۔اس نے ان افراد اور کمپنیوں پر ایران کی ملکیتی ایک فوجی فرم کو حساس اشیاء مہیا کی تھیں۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور کمپنیوں نے امریکی ساختہ برقی آلات سمیت حساس اشیاء ایران کی کمیونیکیشن انڈسٹریزکومہیا کی تھیں۔ایران کی اس فوجی فرم کو امریکا اور یورپی یونین نے بلیک لسٹ قرار دے رکھا ہے۔

محکمہ خزانہ کے مطابق ایران کی یہ فرم فوجی مواصلاتی نظام ، ایویانکس اورمیزائل لانچر تیار کرتی اورمہیا کرتی ہے۔امریکی محکمہ خزانہ نے ان افراد اور اداروں کے خلاف یہ اقدام ایک اتھارٹی کے تحت کیا ہے۔اس کے تحت وسیع پیمانے پر تباہی والے ہتھیار پھیلانے کے ذمے داروں اوران کے حامیوں کے خلاف پابندیاں عاید کی جارہی ہیں۔ان کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کیے جارہے ہیں اور امریکیوں پر ان سے کسی قسم کے کاروبار پر پابندی عاید کی جارہی ہے۔

امریکی وزیرخزانہ اسٹوین نوشین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ایرانی نظام ایک گلوبل نیٹ ورک کو اپنی تخریبی فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال کررہا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’امریکا ان افراد،کمپنیوں اور اداروں کے خلاف اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گاجو ایرانی نظام کی فوجی اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی کوششوں میں مدد ومعاونت کررہے ہیں۔‘‘

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے تعلق رکھنے والی ہدیٰ ٹریڈنگ کمپنی ، ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی پروما انڈسٹری کمپنی لمیٹڈ ، دیس انٹرنیشنل کمپنی ،برونائی میں قائم سول ٹیک انڈسٹری،چین کی کمپنی ناز ٹیکنالوجی اور ایران سے تعلق رکھنے والی آرتین صنعات تبعان کمپنی اور متعدد افراد کو بلیک لسٹ قرار دے کر پابندیاں عاید کی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی 2018ء میں ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہوگئے تھے اور انھوں نے اس کے بعد ایران کے خلاف پے درپے سخت اقتصادی پابندیاں عاید کی ہیں جس کے نتیجے میں اس کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے،ایرانی عوام گوناگوں مسائل سے دوچار ہیں اور امریکا اور ایران کے درمیان سخت تناؤ پایاجارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں