.

ترک وزیرخزانہ البیرق کا غیرروایتی استعفا؛صدر طیب ایردوآن اور حکمراں جماعت’اپ سیٹ‘؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن اپنے داماد بیرات البیرق کے وزیرخزانہ کے عہدے سے غیر روایتی انداز میں مستعفی ہونے پر حکمراں انصاف اور ترقی پارٹی(آق) کے لیڈر ہکا بکا رہ گئے ہیں اور ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ ان کے انسٹاگرام کے ذریعے استعفے پر خود صدر بھی نالاں اور اپ سیٹ ہیں اور انھوں نے ہنوز اس کو منظور نہیں کیا ہے۔

بیرات البیرق نے اتوارکو انسٹاگرام پر جاری کردہ بیان میں لکھا تھا کہ وہ خرابیِ صحت کی بنا پر عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ترکی سے تعلق رکھنے والے بہت مبصرین اور آق کے بعض عہدے داروں کا کہنا ہے کہ صدر طیب ایردوآن تو بیرات البیرق کو اپنے ممکنہ جانشین اور جماعت کے لیڈر کی حیثیت سے آگے لارہے تھے لیکن انھوں نے اچانک مستعفی ہوکر ان کے تمام ارادے اور منصوبے فی الوقت تو خاک میں ملا دیے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بیرات البیرق نے اپنے استعفے میں کابینہ کے سربراہ صدر کو مخاطب نہیں کیا ہے بلکہ ’’عوام کی توجہ مرکوز‘‘ کرائی ہے اور لکھا ہے کہ وہ صحت کی وجوہ کی بنا پر وزارت کے منصب سے سبکدوش ہورہے ہیں۔اس کے بعد سے ترک ایوان صدر نے خاموشی اختیار کررکھی ہے اور ان کے استعفا کو منظور کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

خود صدر ایردوآن نے سوموار کو انقرہ میں ترک سفارت کاروں کے ایک اجلاس میں تقریر کی ہے اور اس میں البیرق کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ان کی جماعت کے ترجمان نے بھی ایک نیوزکانفرنس میں براہ راست اس حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔

ترکی کے ٹیلی ویژن نیٹ ورکس نے بھی حکومت کے معاشی پالیسی ساز کی یوں از خود رخصتی کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا ہے۔تاہم ترکی کی حزب اختلاف کی بڑی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ البیرق کا سوشل میڈیا کے ذریعے مستعفی ہونا ایک منفرد واقعہ ہے اور اس سے حکومت کی بحرانی کیفیت کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

دوسری جانب حکمراں آق کے بعض عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ’’اس انداز میں استعفے سے خود صدر ایردوآن اور جماعت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔‘‘انھوں نے بیرات پر صدر ایردوآن کی سرمایہ کاری کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ طیب ایردوآن آخر کار اپنے داماد کو جماعت کا سربراہ بنانے والے تھے۔

بیرات نے انسٹاگرام پر لکھا تھا:’’منصبِ وزارت پر کوئی پانچ سال تک فائز رہنے کے بعد میں نے صحت کے مسائل کی وجہ سے (وزیرخزانہ) کی حیثیت سے اپنے فرائض جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔وہ اب اپنے خاندان کے ساتھ مزید وقت گزاریں گے، جسے وہ نظرانداز کرتے رہے ہیں۔‘‘

بیرات البیرق ترک صدر کی بڑی بیٹی ایسریٰ سے بیاہے ہوئے ہیں۔وہ 2018ء سے ترکی کے وزیر خزانہ چلے آرہے تھے۔اس سے پہلے وہ 2015ء سے 2018ء تک توانائی کے وزیر رہے تھے۔

بعض سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرات البیرق نے صدارتی محل میں حکومت کی اقتصادی پالیسی سے متعلق اختتام ہفتہ پر منعقدہ ایک اجلاس کے بعد سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔اس اجلاس میں ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی گرتی ہوئی قدر کو سنبھالا دینے سے متعلق امور پر غور کیا گیا تھا لیکن مرکزی بنک نے افراطِ زر کی دُہرے عدد کی شرح پر قابو پانے کے لیے پالیسی انٹرسٹ ریٹ کو 10۰25 سے بڑھانے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔

صدر ایردوآن کو اس اجلاس میں ترکی کے سکڑتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔اس سال اب تک ترک حکام لیرا کی قدر کو مزید گرنے سے بچانے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر میں سے قریباً ایک سو ارب ڈالر استعمال کرچکے ہیں۔

اس اجلاس کے بعد ہی صدر طیب ایردوآن نے ترکی کے مرکزی بنک کے گورنر کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔وہ ڈالر کے مقابلے میں ترک لیرا کی گرتی ہوئی قدر پر قابو پانے میں ناکام رہے تھے۔اس سال اب تک ترک لیرا ڈالر کے مقابلے میں 30 فی صد قدر کھو چکا ہے۔

صدر ایردوآن نے ان کی جگہ سابق وزیرخزانہ ناجی اگبل کو مرکزی بنک کا نیا گورنر مقرر کیا ہے لیکن ان کے تقرر سے قبل انھوں نے بیرات البیرق سے کوئی مشاورت نہیں کی تھی۔بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ نئے گورنر اسٹیٹ بنک کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار نہیں تھے کیونکہ وہ معاشی پالیسیوں کے بارے میں متضاد نقطہ نظر کے حامل ہیں۔

برطرف گورنر مراد یوصل سولہ ماہ تک عہدے پر فائز رہے تھے۔ واضح رہے کہ ان کے پیش رو سابق گورنر بنک دولت ترکی مراد چیتنکایا کو بھی صدر ایردوآن نے 2019ء میں برطرف کردیا تھا۔وہ بھی ڈالر کے مقابلے میں لڑھکتے ہوئے لیرا کو سنبھالا دینے میں ناکام رہے تھے۔