.

سعودی عرب نے مصر سے 84 فن پارے مستعار کیوں لیے؟

سعودی ثقافتی ادارے اور مصر کی آثار قدیمہ کونسل کے درمیان باہمی تعاون کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ثقافتی مرکز 'اثرا' اور مصر کی سپریم آثار قدیمہ کونسل کے درمیان مساجد سے اسلامی تہذیب وثقافت کے پہلوئوں‌ کو اجاگر کرنے کے لیے باہمی تعاون کا ایک معاہدہ کیا ہے۔

اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے ثقافتی ادارے مساجد کے اسلامی تہذیب وتمدن، ثقافت، اسلامی فن تعمیر بالخصوص اسلامی تاریخ میں مساجد کی تعمیر کے فن اور اس کے دیگر پہلوئوں مشترکہ طور پر فروغ دینے کے اقدامات کریں گے۔

دو طرفہ معاہدے کے تحت سعودی ادارے 'اثرا' نے مصر کی سپریم آثار قدیمہ کونسل سے قاہرہ کے اسلامی آرٹ میوزیم کے 84 فن پارے دو سال کے لیے عاریتا حاصل کیے ہیں۔ انہیں 'مسجد کا حصہ' کےعنوان سے منعقدہ اپنی نوعیت کی پہلی نمائش میں‌ رکھا جائے گا۔

دو طرفہ تعاون کے معاہدے پر سعودی عرب کے آرامکو کے امور کے چیئرمین انجینیر نبیل العنیم اور مصر کی سپریم آثار قدیمہ کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مصطفیٰ وزیری نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں مذہبی ثقافت کے فروغ کی نئی راہیں کھلیں گی اور یہ معاہدہ دو طرفہ تعاون کے فروغ کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں