.

آرمینیا میں ہزاروں افراد کا جنگ بندی کے خلاف مظاہرہ،وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آرمینیا کے دارالحکومت یروان میں بدھ کے روز ہزاروں افراد نے حکومت کے آذربائیجان سے ناگورنوقراباغ میں جنگ بندی کے لیے سمجھوتے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور وزیراعظم نیکول پشینیان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

آرمینیائی اورآذری فوج کے درمیان کوئی چھے ہفتے کی لڑائی کے بعد منگل کے روز روس کی ثالثی میں جنگ بندی کے سمجھوتے کا اعلان کیا گیا ہے۔اس کےتحت ناگورنوقراباغ میں آذربائیجان کی فوج کی پیش قدمی کو تسلیم کیا گیا ہے۔آذربائیجان میں اس کو فتح سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کا جشن منایا جارہا ہے۔

آرمینیائی نیکول پشینیان نے سیزفائر کو ایک تباہی قرار دیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس پر دست خط کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں تھا۔ دوسری صورت میں انھیں شکست سے دوچار ہونا پڑتا۔

ان کے اس اقدام کے خلاف یروان میں ہزاروں آرمینیائی شہری سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں، انھوں نے دارالحکومت یروان میں احتجاجی ریلیوں کو روکنے کے لیے مارشل لا کی پابندی کو بھی تیاگ دیا ہے اور دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔انھوں نے منگل کے روز بعض سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کردیا تھا۔

آج احتجاجی مظاہروں کے شرکاء نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ماسک پہن رکھے تھے۔انھوں نے حزب اختلاف کے ایک معروف لیڈر گیجک ساروکیان سمیت متعدد رہ نماؤں کی گرفتاری کے باوجود احتجاجی ریلی نکالی ہے۔

جنگ بندی کے سمجھوتے کے تحت ناگورنوقراباغ کے اندر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں متحارب فورسز نے جنگی کارروائیاں روک دی ہیں اور سمجھوتے کے تحت روس کے دو ہزار امن دستوں کو تعینات کیا جارہا ہے۔ وہ پانچ سال کے لیے اس علاقے میں تعینات رہیں گے اور جنگ بندی کی نگرانی کریں گے۔

روس کے امن فوجیوں کی علاقے میں آمد شروع ہوچکی ہے۔انھوں نے درہ لاشین کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔یہ پہاڑی گذرگاہ آرمینیا اور ناگورنو قراباغ کے درمیان واقع ہے۔

وزیراعظم نیکول پشینیان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی فوج کے دباؤ کے تحت امن سمجھوتا طے کیا ہے۔ناگورنوقراباغ کے لیڈر کا کہنا ہے کہ آذربائیجان نے متنازع علاقے کے دوسرے بڑے شہر شوشی پر قبضہ کر لیا تھا اوراس کے بعد اس کا پورے علاقے پر دوبارہ کنٹرول کا خطرہ تھا۔واضح رہے کہ آذری زبان میں اس شہر کو شوشا کہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ ایک بڑی ناکامی اور تباہی ہے۔ وہ ذاتی طور پر اس کی ذمے داری قبول کرتے ہیں لیکن انھوں نے مستعفی ہونے کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔‘‘

ناگورنو قراباغ میں آرمینیائی نسل کی انتظامیہ کے تحت فوج اور آذربائیجان کی فوج کے درمیان 27 ستمبر کو لڑائی چھڑی تھی اور اس میں سیکڑوں فوجی اور عام افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ترکی اس لڑائی میں آذر بائیجان کی بھرپور حمایت کرتا رہا ہے۔اس نے جنگ بندی سمجھوتے کی حمایت کی ہے لیکن وہ اس کے لیے طرفین کے درمیان مذاکرات میں شریک نہیں تھا۔

واضح رہے کہ ناگورنو قراباغ کا علاقہ آذربائیجان میں واقع ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اس کو آذربائیجان ہی کا علاقہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس پر آرمینیائی نسل کی فورسز کا 1994ء سے کنٹرول چلا آرہاہے۔

تب ناگورنو قراباغ نے آذر بائیجان کے خلاف جنگ کے بعد اپنی آزادی کا اعلان کردیا تھا۔اس لڑائی میں 30 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تین سال کے بعد 1994ء میں آرمینیا اور آذربائیجان میں جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا مگر اس کے باوجود اپریل 2016ء میں دوبارہ قراباغ میں لڑائی چھڑ گئی تھی۔دونوں ملکوں کے درمیان سابق سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے اس علاقے پر کنٹرول کے لیے تنازع چل رہا ہے۔