.

آسٹریا: دہشت گردی کے خطرے کا موجب ملزموں کے لیے غیرمعیّنہ مدت کی قید کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریا نے دہشت گردی کے خطرے کا موجب افراد کو غیر معیّنہ مدت کے لیے جیل میں ڈالنے کی غرض سے ایک قانونی پیکج تجویز کیا ہے۔اس مجوزہ قانون کے تحت دہشت گردی کے مقدمات میں ماخوذ افراد کو اس وقت تک جیل میں ڈالا جاسکے گا جب تک ان سے کسی قسم کا خطرہ لاحق رہے گا۔

آسٹروی حکومت نے ویانا میں گذشتہ ہفتے ایک سزا یافتہ دہشت گرد کے حملے میں چار افراد کی ہلاکت کے بعد اس نئے قانونی اقدام کی تجویز پیش کی ہے۔اس 22 سالہ مسلح حملہ آور کو شام میں انتہا پسند گروپ داعش میں شمولیت کی کوشش کے الزام میں ایک آسٹروی عدالت نے 22 ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔آسٹروی حکومت نے اس کے حملے سے قبل انٹیلی جنس کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔

آسٹریا کے قدامت پسند چانسلر سیباسٹیئن کرز نے بدھ کو ویانا میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ’’ذہنی طور پر ایک ابنارمل مجرم کو اس سے لاحق خطرے کے پیش نظر پوری زندگی کے لیے سلاخوں کے پیچھے بند کیا جاسکتا ہے تو پھر خطرے کا موجب ایک دہشت گرد کو پوری زندگی کے لیے کیوں بند نہیں کیاجاسکتا ہے؟‘‘

انھوں نے نیوزکانفرنس میں انسداد دہشت گردی کے لیے مجوزہ پیکج کی تفصیل بتائی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’عدالتوں کو انتہا پسندی کے جرائم میں ماخوذ کیے گئے مجرموں کو طویل قید کی سزا دینے کا اختیار ہوگا۔جو مجرم پہلے ہی اپنی سزائیں بھگت چکے ہیں،ان کی الیکٹرانک آلات کی مدد سے منظم انداز میں نگرانی کی جائے گی۔‘‘

چانسلرکرز نے ملک میں موجود غیرملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی تعداد بھی بتائی ہے اور کہا ہے کہ اس وقت ڈیڑھ سو سے زیادہ ایسے افراد ویانا میں موجود ہیں،ان میں سے بعض جیلوں میں بند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریا سے بڑی تعداد میں جنگجو عراق اور شام میں گئے تھے، وہ وہاں داعش میں شامل ہوکر لڑتے رہے ہیں اور ان میں سے قریباً ایک سو ابھی تک ملک میں نہیں لوٹے ہیں۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ اگر آسٹریا مشتبہ دہشت گردوں کو غیرمعیّنہ مدت کے لیے جیلوں میں رکھتا ہے تو اس کا یہ اقدام یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق سے کیونکر مطابقت کاحامل ہوگا۔جب کرز سے اس بابت پوچھا گیا کہ کیا کسی اور یورپی ملک میں بھی اس طرح کا کوئی قانونی اقدام کیا گیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ بعض ممالک نے ایسے اقدامات کیے ہیں لیکن انھوں نے اس ضمن میں کسی ایک بھی ملک کا نام نہیں لیا ہے۔

آسٹریا کے وائس چانسلر ورنر کوگلر نے نئے قانون کی وضاحت کی ہے کہ اس کا دہشت گردی کی تمام شکلوں پر اطلاق ہوگا۔ان میں نیونازیوں کی دہشت گردی بھی شامل ہے۔