.

اسرائیل، یونان اور قبرص کا بحیرہ روم میں عسکری ہم آہنگی کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل، یونان اور قبرص میں مشرقی بحیرہ روم اور مشرق وسطیٰ کے مسائل پر عسکری شعبے میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور مشترکہ موقف اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قبرص نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ قبرص، یونان اور اسرائیل کے وزرائے دفاع مشرقی بحیرہ روم میں ہونے والی پیشرفت اور سہ فریقی تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کے لیے جمعرات کو نیکوسیا میں ایک اجلاس میں شرکت کریں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی یونان کے دورے پر ہیں، جن کا ایجنڈا مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کی اشتعال انگیزی پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

یونان کے وزیر اعظم کریاکوس میٹسوٹاکس نے کہا ہے کہ یونان اور مصر نے نو منتخب امریکی صدر منتخب جو بائیڈن کے مینڈیٹ میں مشرقی بحیرہ روم میں مزید امریکی اقدامات کی شمولیت کی توقع کا اظہار کیا ہے۔

قاہرہ اور ایتھنز نے بحیرہ روم کے قدرتی وسائل پر اگست میں سمندری حدود کی توثیق کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔

مٹسوٹاکس نے کہا کہ اس معاہدے سے ظاہر ہوا ہے کہ جو ممالک بین الاقوامی قانون کا احترام کرتے ہیں اور پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھتے ہیں وہ اپنے عوام کے مفاد کے لیے نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونان اور مصر دونوں اس معاہدے کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

ترکی جو بحیرہ روم میں توانائی کے وسائل کے علاقوں کو اپنے زیرانتظام لانے کی کوشش کررہا ہے مگر اسے خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ اس حوالے سے تنائو بھی موجود ہے۔ مصری، قبرص اور یونان نے ترکی کی سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کے منصوبوں کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔