.

ترک معیشت زمین بوس، ایردوآن کے داماد کا استعفا سیاسی چال ہے: امریکی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر خزانہ بیرات البیرق نے جو کہ صدر رجب طیب ایردوآن کے داماد بھی ہیں، اتوار کی شام اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

البیرق کے مطابق وہ صحت سے متعلق وجوہات کے سبب مستعفی ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو مزید وقت دینا چاہتے ہیں۔

اس حوالے سے سرکاری تفصیلات کے موجود نہ ہونے کی روشنی میں تُرک شہریوں نے اپنے پسندیدہ واٹس ایپ گروپوں پر انحصار کیا جہاں یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ البیرق نے گذشتہ ہفتے ترکی کے مرکزی بینک کے گورنر کو بدلے جانے پر احتجاجا استعفا دیا ہے کیوں کہ البیرق کو اس اقدام سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ یہ بات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بتائی۔

البیرق کو ایردوآن کا وارث شمار کیا جاتا ہے۔ انہیں 2018ء میں 40 کی عمر میں ترکی کی معشیت کا ذمے دار مقرر کیا گیا تھا۔

اخبار کی رپورٹ میں ترکی میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور افراط زر کی شرح میں اضافے کے علاوہ مقامی کرنسی لیرہ کی قدر میں بے قابو گراوٹ کا بھی حوالہ دیا گیا۔ رواں سال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تُرک لیرہ کی قدر میں 30% تک کمی واقع ہوئی۔

اسی طرح کوئی بھی اس وقت ترکی میں سرمایہ کاری کا خواہش مند نہیں ہے۔ ملک سے سرمایہ تیزی سے باہر منتقل ہو رہا ہے۔ ترکی کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آخر کار ایردوآن کا داماد ترکی کی معیشت کی تباہی کے سلسلے میں قربانی کا بکرا بنایا جا سکتا ہے تاہم درحقیقت وہ تو صرف صدر ایردوآن کے ویژن پر عمل درامد کر رہا تھا۔

امریکی اخبار کے مطابق 2017ء میں ایردوآن کی جانب سے حکمراں نظام کو پارلیمانی سے صدارتی نظام میں تبدیل کرنے میں کامیابی کے بعد ملک کے مالیاتی اداروں کی خود مختاری ختم کر دی گئی۔ ان میں مرکزی بینک سے لے کر دیگر خود مختار ادارے شامل ہیں۔ یہ تمام ادارے اس وقت ایردوآن کے ہمنوا افراد سے کھچا کھچ بھرے پڑے ہیں۔

سال 2018ء سے ترک شہریوں نے اپنے نقد اثاثوں کا بڑا حصہ غیر ملکی کرنسی کی شکل میں رکھا ہوا ہے اور ملک میں سرمایہ کاری کی خواہش کم ہے۔ ترکی میں غیر ملکی سرمایہ کاری آنا بند ہو گئی ہے اور خاص طور پر نجی سیکٹر قرضوں کے حوالے سے تباہی کے دہانے پر ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے اختتام پر بتایا گیا ہے کہ ترکی کے بیرونی قرضوں کا حجم 420 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جب کہ ملک کا خزانہ تقریبا خالی ہے۔ اس وقت انقرہ کو واقعتا نقدی کا ایک ضخیم حجم خزانے میں ڈالنے ... اور خود مختار اداروں کے ساتھ قاعدوں پر مبنی نظام کی جانب لوٹنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم یہ نظام صدر ایردوآن کی جانب سے مسترد شدہ ہے۔

ایردوآن معیشت پر کنٹرول برقرار رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ تمام مالیاتی امور میں حتمی فیصلوں کی زمام اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے داماد کا مستعفی ہونا ترکی کی معیشت کے واسطے امید کی کرن سے زیادہ میوزیکل چیئر کا کھیل ہے۔