.

داعش نے جدہ میں غیرمسلموں کے قبرستان پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند گروپ داعش نے سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں غیرمسلموں کے قبرستان پر بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ قبرستان الحواجات میں بدھ کو ایک تقریب پر حملے میں دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔

سائٹ انٹیلی جنس گروپ کے مطابق داعش نے جمعرات کو اپنی خبررساں ایجنسی اعماق پر ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس نے کہا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے جدہ میں گذشتہ روز قبرستان میں دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا۔اس وقت وہاں تقریب میں یورپی ممالک کے سفارت کار شریک تھے۔

مکہ ریجن کے ترجمان سلطان الدوسری نے کہا ہے کہ ’’ سکیورٹی حکام نے اس ناکام اور بزدلانہ حملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔اس وقت جدہ گورنری میں واقع قبرستان میں منعقدہ تقریب میں فرانسیسی قونصل بھی شریک تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں یونانی قونصل خانے کا ایک ملازم اور سعودی سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار معمولی زخمی ہوگیا ہے۔اب واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔‘‘

سعودی حکام کے مطابق قبرستان میں یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا تھا جب مختلف غیرملکی سفارت خانوں کے ارکان وہاں پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب میں شریک تھے۔

الریاض میں فرانس ، یونان ، اٹلی ، برطانیہ اور امریکا کے سفارت خانوں نے گذشتہ روز ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کے حکام کی اس حملے اور اس کے ذمے داروں کے خلاف تحقیقات کی حمایت کرتے ہیں۔

ان سفارت خانوں نے اس حملے کے فوری بعد سعودی حکام کا ان کے سریع الحرکت ردعمل پر پر شکریہ ادا کیا تھا۔انھوں نے حملہ کی جگہ پر موجود ہر شخص کی مدد کی۔سعودی سکیورٹی فورسز نے قبرستان کا فوری طور پر محاصرہ کر لیا تھا اور اس کو محفوظ بنالیا تھا۔

العربیہ کے مطابق الخواجات قبرستان میں برطانوی اور پرتگیزی فوجیوں سمیت مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد مدفون ہیں۔