.

بائیڈن کا ہیلری کلنٹن کو اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مقرر کرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے جمعرات کے روز ریپبلکن پارٹی کے سینئر قانون ساز ارکان پر زور دیا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اقتدار کی سرکاری منتقلی روکنے کی کوشش جاری رکھنے کے باوجود بائیڈن کو خفیہ بریفنگز حاصل کرنے کی اجازت دیں۔

ادھر ٹرمپ کی انتخابی مہم ایک قانونی حکمت عملی تشکیل دینے کی تگ و دو میں ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا غالب گمان نہیں کہ موجودہ صدر بائیڈن کی صدارتی انتخابات میں جیت کو ویٹو کرنے کے لیے مرکزی ریاستوں میں مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل کر سکیں۔

ریپبلکن پارٹی کی خاتون سینیٹر سوزان كولنز کے مطابق بائیڈن کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ خفیہ انٹیلی جنس معلومات کی آگاہی حاصل کر سکیں۔ اس لیے کہ یہ "اقتدار کی منتقلی کے عمل میں ایک اہم جز ہے"۔ کولنز نے جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " اگر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ انتخابات میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو انہیں قانونی تقاضوں کو ضرور پورا کرنا چاہیے تاہم موجودہ صدر پر لازم ہے کہ وہ اقتدار کی منتقلی میں تاخیر نہ کریں۔ اس لیے کہ ہم چاہتے ہیں کہ منتخب صدر پہلے روز سے اقتدار سنبھالنے کی پوزیشن میں ہوں"۔

جو بائیڈن نے ایوان نمائندگان کی خاتون اسپیکر نینسی پلوسی اور سینیٹ میں اقلیت کے لیڈر چاک شومر سے بھی بات چیت کی ہے۔ تینوں شخصیات نے زور دیا کہ کرونا وائرس سے متعلق امدادی پیکج پر دستخط کیے جانے کی ضرورت ہے تا کہ رواں سال کے اختتام تک یہ قانون بن جائے۔ بائیڈن نے جمعرات کے روز پوپ فرانسس سے بھی بات چیت کی۔ بائیڈن جو کہ امریکا کے صدر بننے والے دوسرے کیتھولک ہیں انہوں نے غربت، ماحولیات کی تبدیلی اور ہجرت جیسے معاملات میں مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

بائیڈن نے بدھ کے روز رونالڈ کلین کو وائٹ ہاؤس کے اہل کاروں کا چیف مقرر کیا تھا۔

پس پردہ نئی انتظامیہ اور عہدے داران کے تقرر کے حوالے سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق زیر بحث آنے والے ناموں میں ایک اہم نام سابق ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کا بھی ہے۔ انہیں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مقرر کیے جانے پر غور ہو رہا ہے۔ ہیلری کو اس منصب پر فائز کیے جانے کا مقصد یہ ہے کہ عالمی اسٹیج پر امریکا کے نیچے آتے کردار کے بیچ عالمی تعاون کی قدر و قیمت باور کرائی جا سکے۔