.

امریکی 'ٹیسلا' کمپنی کے چیف کے کرونا کی چار متضاد میڈیکل رپورٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کار ساز کمپنی 'ٹیسلا' کے چیف ایگزیکٹو نے کرونا وائرس کے حوالے اپنے متضاد میڈیکل ٹیسٹوں کے نتائج پر دنیا کو حیران کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک دن میں ان کے کرونا کے 4 ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے دو بار کرونا کی رپورٹس کے نتائج منفی اور دو بار مثبت تھے۔

قبل ازیں انہوں‌ نے کہا تھا کہ وہ کرونا کی وبا سے محفوظ ہیں اور انہیں اس کی ویکسین لینے کی ضرورت نہیں تاہم کچھ ہی دیر بعد ایلون مسک نے بتایا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کرونا شکار ہو گئے ہیں۔

جمعہ کے روز ایلون مسک نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں لکھا یہ بات حیرت ناک اس نے ایک ہی دن میں 4 بار کرونا کے ٹیسٹ کروائے۔ تاہم ان کے نتائج متضاد تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں‌ غلطی کا امکان ہوسکتا ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ غلطی کس طرف ہے، تاہم جو کچھ انہوں‌ نے دیکھا وہ بہت ہی عجیب واقعہ ہے۔ میں نے آج چار بار کرونا ٹیسٹ لیا لیکن اس کا نتیجہ دو بار منفی، دو بار مثبت رہا۔ ایک ہی مشین، ایک ہی ٹیسٹ ، ایک ہی نرس ۔ یہ کیسے نتائج ہیں۔

لیکن جب ایک صارف نے ٹویٹر پر ان سے پوچھا کہ کیا انہیں کرونا کی کوئی علامت محسوس ہوئی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ صرف عام سردی محسوس کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

قابل ذکر ہے کہ کرونا ٹیسٹوں کے مرکزی تقسیم کاروں میں سے ایک بیکٹن ڈیکنسن نے گذشتہ ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ امریکا میں نرسنگ ہومز سے ملنے والی ان رپورٹوں کی تحقیقات کر رہا ہے کہ وائرس کے لیے تیز تر جانچ کے آلات نے غلط نتائج برآمد کیے ہیں۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس ماہ کے شروع میں ملک میں کلینیکل لیبارٹریوں اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کو متنبہ کیا تھا کہ رینڈم ٹیسٹ غلط نتائج دے سکتے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسک نے گذشتہ ستمبر میں کہا تھا کہ اگر سائنسدان کرونا کا پھیلائو روکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ ویکسین نہیں لگوائیں گے۔