.

وژن 2030ء نے انتہا پسندی کے سر چشمے خشک کر دیے: فیصل بن معمر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے بین الاقوامی مرکز برائے بین المذاہب مکالمہ کے سیکرٹری جنرل فیصل بن معمر نے کہا ہے کہ سعودی قیادت کی طرف سے وژن 2030ء پیش کر کے مملکت میں انتہا پسندی کے بیانیے کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وژن 2030ء نے انتہا پسندی کے سوتے خشک کر دیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ویانا میں شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز بین الاقوامی مرکز برائے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمہ کے سکریٹری جنرل فیصل بن معمر نے کہا کہ سعودی عرب کی دانش مند قیادت نےعالمی سلامتی اور امن کے حصول کے لئے اپنی موثر شراکت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ احترام اور بقائے باہمی کے استحکام کا اصول اپنایا اور عدم برداشت اور نفرت کو مسترد کردیاہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے خطاب میں فیصل بن معمر نے کہا کہ ہم نے مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والوں کے مابین مکالمہ اور تعاون کو بڑھانے کے لیے مستقل کام کی اہمیت کی پر زور دیا ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا کو انتہا پسندی ، تشدد اور دہشت گردی کے سب سے پُر تشدد واوقعات کا سامنا رہا ہے۔ انتہا پسندی کو فروغ دے کر اعتدال پسندی کی بیخ کنی کی گئی مگر سعودی عرب نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو شکست سے دوچار کیا ہے۔

انہوں نے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف شکلوں اور مظاہروں میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاست کے مستقل نقطہ نظر کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے وژن 2030 پروگرام پیش کر کے دہشت گردی کو کچلنے اور امن و رواداری کو فروغ دینے کا نظریہ پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پالیسی سازی کے لیے موثر مذہبی رہ نماؤں اور حکام کے کردار پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں کیونکہ حقیقت اس کی افادیت کی تصدیق کرتی ہے۔ سعودی عرب دنیا میں‌ نفرت کو فروغ دینے والوں کے خلاف نبرد آزما ہے اور ہم ہر سطح پر انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے کام کر رہے ہیں۔

فیصل بن معمر نے کہا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ہمیشہ رواداری، اعتدال پسندی اور امن کی اقدار کو پھیلانے اور نفرت اور انتہا پسندی کو مسترد کرنے پر زور دیا ہے۔ وژن 2030 کا بھی یہی پیغام ہے۔