.

کرونا کے خواتین پر اثرات سے متعلق یو این میں پیش کردہ سعودی قرارداد منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے سعودی عرب کے ذریعہ پیش کردہ ایک مسودہ قرار داد کی منظوری دی ہے جس میں خواتین اور لڑکیوں پر کرونا وبا کے اثرات کے بین الاقوامی رد عمل کی حمایت کی گئی ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے پیش کردہ قرارداد پر مصر، الجیریا ، چین اور زیمبیا کی طرف سے تعاون فراہم کیا گیا۔ قرارداد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس میں کی تیسری کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی۔ اس میں خواتین اور لڑکیوں پر کرونا وائرس (کوویڈ - 19) کے اثرات کے بارے میں ریپڈ بین الاقوامی ردعمل کی منظوری دی گئی ہے۔ اس قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کی سفارتی مساعی کا آئینہ دار ہے۔

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق قرارداد میں مُتعدد علاقوں میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کرونا کی روک تھام کے لیے بندشوں کے اقدامات اور حفاظتی خدمات کی عدم فراہمی کے باعث خواتین اور کم عمر لڑکیوں کے اثرات پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے میں کام کرنے والی خواتین کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

قرارداد میں اس عالمی بحران کے تباہ کن اثرات اور اس کے خواتین اور لڑکیوں پر پڑنے والے اثرات پر گفتگو کرنے اور کوویڈ 19 وبائی بیماری کا مقابلہ کرنے میں ان دو اہم گروپوں کے مسائل کو زیر بحث لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مندوب ڈاکٹر خالد منزلاوی نے اجلاس کے دوران خطاب میں کہا کہ میں پوری دنیا میں انسانیت کی خدمت کرنے والی خواتین سے ہمدردی اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'کوڈ ۔ 19' کی وبا نے خواتین کو کئی پہلوئوں سے متاثر کیا ہے۔ ان کی بہتری اور بہبود کے لیے پوری دنیا کو مل کرکام کرنا ہوگا۔