.

آرمینیا کے وزیر اعظم کو ہلاک کرنے کی کوشش ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آرمینیا میں سیکورٹی ادارے نے ہفتے کے روز انکشاف کیا کہ وزیر اعظم نیکول باشینان کے قتل کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق باشینان کو نشانہ بنانے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کا منصوبہ سابق عہدے داران کے ایک مجموعے نے بنایا۔

مزید برآں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ادارے کے سابق سربراہ آرتر وینتسان، ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی بلاک کے سابق سربراہ فاہرام باگداساریان اور سابق جنگجو آشوت میناساریان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سیکورٹی ادارے کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ "مشتبہ افراد غیر قانونی طریقے سے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے وزیر اعظم کو ہلاک کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا اور ان کی جگہ مقرر کرنے کے لیے ممکنہ امیدواروں کے بارے میں پہلے ہی طے کر لیا گیا تھا"۔

یاد رہے کہ منگل کے روز سے وزیر اعظم باشینان کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ آذربائیجان کے ساتھ فائر بندی کے معاہدے پر دستخط کرنے کے سبب ہزاروں مظاہرین باشینان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امن کے واسطے اس اعلان کو آرمینیا میں رائے عامہ کی جانب قبول نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے فائر بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی آرمینیا میں غصے میں بپھرے مظاہرین نے دارالحکومت میں حکومتی دفاتر پر حملہ کر دیا تھا۔ اس دوران دفاتر میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔

دوسری جانب آرمینیا کے وزیر اعظم نے اپنے فیس بک پیج پر براہ راست خطاب میں کہا تھا کہ نگورنو کاراباخ میں جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر دستخط کے سوا کئی دوسرا راستہ نہ تھا۔

تاہم ان کے الفاظ مظاہرین کو قائل نہیں کر سکے جو پارلیمنٹ کی عمارت کی جانب منتقل ہو گئے اور انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کی گاڑی کو گھیر لیا۔ وہ اسپیکر کو گاڑی سے باہر لانا چاہتے تھے مگر سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔

آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول باشینیان نے نگورنو کاراباخ میں جنگ کے خاتمے کے لیے روس اور آذربائیجان کی قیادت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ انہوں نے معاہدے کو بحران کا بہترین ممکنہ حل قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ ماسکو کے زیر سرپرستی اس معاہدے نے نگورنو کاراباخ میں تقریبا 7 ہفتے جاری رہنے والی شدید لڑائی کو روک دیا۔ کاراباخ دونوں ملکوں کے بیچ کئی دہائیوں سے متنازع پہاڑی علاقہ ہے۔ مذکورہ معاہدے کی رُو سے آذربائیجان کو ایک وسیع علاقہ واپس مل گیا جو 1990ء کی دہائی کے اوائل سے آرمینیا کے کنٹرول میں تھا۔