.

سعودی عرب کے پاس مختلف ملکوں سے اسلحہ کی خریداری کا آپشن موجود ہے: الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے یمن جنگ کی وجہ سے جرمنی کی جانب سے سعودی عرب پر اسلحہ کی برآمد پر پابندی عاید کرنے کی تجویز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے پاس کئی دوسرے ممالک سے ہتھیاروں کی خریداری کا آپشن موجود ہے۔

جرمن نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے الجبیر نے کہا کہ یمن جنگ کی وجہ سے سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت روکنے کا خیال غیر منطقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن میں جنگ ایک جائز اور آئینی جنگ ہے جسے ہمیں لڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب متعدد ممالک سے اسلحہ خرید سکتا ہے اور ایسا ہوتا رہا ہے۔

چانسلر انجیلا مرکل کی سربراہی میں قائم جرمن حکمراں اتحاد نے مارچ 2018 میں ایک معاہدہ کیا تھا جس میں یمن جنگ میں براہ راست حصہ لینے والے ممالک کو اسلحہ کی برآمدات روکنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔