.

چین کے تعاون سے دنیا میں آزادانہ تجارت کا سب سے بڑا معاہدہ

15 ایشیائی ممالک معاہدے کے تحت کئی شعبوں میں ٹیرف میں کمی لائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین سمیت بحر الکاہل کے 15 ایشیائی ممالک نے دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ نئے تجارتی معاہدے میں امریکا شامل نہیں ہے جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا ایک حریف ایشیا پیسیفک گروپ سے بھی الگ ہو گیا تھا۔

دستخط کی تقریب اتوار کو ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ایک ورچوئل اجلاس کے بعد ہوئی۔ علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے یہ معاہدہ طے پانے میں آٹھ سال لگے۔ توقع ہے کہ اس سے خطے کی 2.2 ارب آبادی مستفید ہو گی۔

عالمی اقتصادی پیداوار کا ایک تہائی حصہ ان ممالک کا مرہون منت ہے۔ آر سی ای پی نامی اس معاہدے سے ٹیکسوں میں کمی لائی جائے گی، تجارتی ضوابط نرم کیے جائیں گے اور سپلائی چین میں بہتری پیدا ہو گی۔ آر سی ای پی میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے 10 رکن ممالک سمیت چین، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ معاہدے کا مقصد آنے والے برسوں میں کئی شعبوں میں ٹیرف میں کمی لانا ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق نیا تجارتی معاہدہ اس تجارتی معاہدے کے لیے مزید ایک دھچکا ہے جسے امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے فروغ دیا۔

ایشیا میں امریکی کردار پر سوالات کی فضا میں آزادانہ تجارت کا معاہدہ جنوبی ایشیا، جاپان اور کوریا کے ساتھ اقتصادی شراکت دار کی حیثیت سے چین کی حیثیت کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔ اس طرح دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین علاقے میں تجارت کے ضابطے مرتب کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں آ جائے گا۔

امریکہ آزادانہ تجارت کے نئے معاہدے کا حصہ ہے اور نہ ہی اوباما کی قیادت میں اس سے پہلے بننے والے ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ (ٹی پی پی) میں شامل ہے۔ اس طرح دنیا کی سب سے بڑی معیشت ان تجارتی گروپس سے باہر ہو گئی ہے جو تیزی سے ترقی کرتے علاقوں پر محیط ہیں۔

عظیم تر چین کے لیے بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز کارپوریشن آئی این جی کے چیف اکنامسٹ آئرس پینگ نے کہا ہے کہ آزادانہ تجارت کے نئے معاہدے جس کی تشکیل میں واشنگٹن کے ساتھ گہرے ہوتے اختلافات کی وجہ سے تیزی آئی، کی بدولت چین کو سمندر پار منڈیوں اور ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق معاہدے پر دستخط سے قبل اپنے خطاب میں ویت نام کے وزیراعظم گیوین شوان فوک نے کہا: ’میں خوش ہوں کہ آٹھ سال تک پیچیدہ مذاکرات کے بعد آج ہم نے آزادانہ تجارت پر ہونے والی بات سرکاری طور پر مکمل کر لی ہے۔‘

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور بزنس سکول میں تجارت کے ماہر الیگزینڈر کیپری نے کہا ہے کہ آر سی ای پی سے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کے معاملے میں چین کے علاقائی سطح پر جغرافیائی اور سیاسی ارادوں کو تقویت ملے گی۔

روڈ اینڈ بیلٹ سرمایہ کاری کا اہم چینی منصوبہ ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں چینی بنیادی ڈھانچے اور اثر ورسوخ کو فروغ دینا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت بھی گذشتہ سال آزادانہ تجارت کے معاہدے سے الگ ہوگیا تھا کیونکہ اسے تشویش تھی کہ اس طرح چین کا سستا مال ملک میں آئے گا جس سے ملکی صنعت متاثر ہو گی۔