.

سعودی عرب کا ’نیا چہرہ‘ : خواتین کے پہلے پیشہ وربین الاقوامی گالف ٹورنا منٹ کا انعقاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں خواتین کو بااختیار بنانے اور انھیں کاروبار، معیشت وتجارت سے کھیل وثقافت تک کے شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ آگے لانے کے لیے حکومت ویژن 2030ء کے تحت مختلف اقدامات کررہی ہے۔اسی سلسلے میں سعودی عرب میں دنیا کی بیس بڑی معیشتوں پر مشتمل گروپ 20 کے سربراہ اجلاس سے قبل خواتین کے پہلے پروفیشنل گالف ٹورنا منٹ کا انعقاد کیا گیا ہے۔

چار روزہ سعودی لیڈیز انٹرنیشنل گالف ٹورنا منٹ گذشتہ جمعرات کو شروع ہوا تھا اورسوموار کو اختتام پذیر ہوا ہے۔گالف کے ان مقابلوں میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی پروفیشنل گالفر خواتین نے حصہ لیا ہے۔ ان میں مراکشی ایتھلیٹ ماہا الحديوی بھی شامل ہیں۔

انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ٹورنا منٹ سعودی عرب میں خواتین اور ان کے گالف کے کھیل، دونوں کے لیے ایک نیا ورق ہے۔‘‘

ماہا الحديوی کا کہنا تھا کہ’’جب آپ نے (سعودی عرب کے بارے میں) بہت سی چیزیں سن رکھی ہوں تو پھر آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ تو حقیقت سے بھی زیادہ قدامت پسند ہوگا لیکن میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ دنیا سعودی عرب کا ایک نیا چہرہ دیکھے۔‘‘

اس ٹورنا منٹ کا اہتمام دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی سعودی آرامکو نے کیا تھا۔اس کا مقصد روایتی طور پر مردوں کی بالادستی کے حامل سعودی معاشرے میں خواتین کی گالف ایسے کھیل میں آگے آنے کے لیے حوصلہ افزائی تھا تاکہ وہ صنفی تعصب پر قابو پائیں اور زندگی کے ہر میدان میں آگے آئیں اور ترقی کریں۔

سعودی آرامکو کے سینیرنائب صدر برائے انسانی وسائل نبیل جمعہ نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’گالف یا کسی بھی دوسرے کھیل میں حصہ لینے سے خواتین کو جہاں جسمانی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں، وہیں دیگر کثیر فوائد بھی ہیں۔اس طرح خواتین اپنی ذاتی عزت وتوقیر میں اضافہ کرسکتی ہیں، وہ صنفی امتیازات پر قابو پاسکتی ہیں، انھیں قائدانہ صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع ملتا ہے اور نوجوان خواتین میں عملی زندگی میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے مسابقت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔‘‘

اس ٹورنا منٹ کے تناظر میں سعودی حکومت نے مملکت میں گالف کے کھیل کے فروغ کے لیے قومی مستحکم حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت سعودی عرب بھر میں نئے گالف کورسز شروع کیے جارہے ہیں اور لیڈیز فرسٹ کلب قائم کیا جارہا ہے۔یہ مملکت کی ایک ہزار خواتین کو رُکنیت دے گا۔